Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدہ، خام تیل کی قیمتوں پر شیئر مارکیٹ کی نظر

Updated: June 28, 2026, 6:02 PM IST | Mumbai

ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کے لیے اگلا ہفتہ انتہائی اہم ہوگا۔ ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدہ، خام تیل کی قیمتیں، ایف آئی آئی کے جذبات، اور گھریلو اقتصادی اعداد و شمار اسٹاک مارکیٹ کی حرکت کا تعین کریں گے۔

Bombay Stock Exchange.Photo:INN
بامبے اسٹاک ایکسچینج ۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کے لیے اگلا ہفتہ انتہائی اہم ہوگا۔ ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدہ، خام تیل کی قیمتیں، ایف آئی آئی  کے جذبات، اور گھریلو اقتصادی اعداد و شمار اسٹاک مارکیٹ کی حرکت کا تعین کریں گے۔ سرمایہ کار اگلے ہفتے ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدے پر گہری نظر رکھیں گے۔ مرکزی وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان اور امریکہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:امریکہ کے حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی


ان کا یہ بیان امریکی تجارتی نمائندے جیمسن گریر سے ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ اس مجوزہ معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط ہونے کی امید ہے۔امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں سرمایہ کاروں کے لیے باعث تشویش ہیں۔ امریکہ نے جمعہ کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم، حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور برینٹ کروڈ ۷۲؍ ڈالرس کے آس پاس رہتا ہے۔
گھریلو اقتصادی اعداد و شمار بھی مارکیٹ کی نقل و حرکت کو متاثر کرے گا۔ صنعتی پیداوار اور مینوفیکچرنگ آؤٹ پٹ ڈیٹا ۲۹؍ جون ۲۰۲۶ءکو جاری کیا جائے گا۔ مئی کے مالیاتی خسارے اور تجارتی توازن کا ڈیٹا ۳۰؍ جون کو جاری کیا جائے گا۔ جی ایس ٹی، آٹو سیلز، اور مینوفیکچرنگ پی ایم آئی  ڈیٹا یکم  جولائی کو جاری کیا جائے گا، اور سروسیز اور جامع پی ایم آئی  اور زرمبادلہ کے ذخائر کا ڈیٹا ۲؍  جولائی کو جاری کیا جائے گا۔ سینسیکس ۳۹ء۰؍ فیصد بڑھ کر۴۷ء۷۷۱۰۰؍ پر بند ہوا، جبکہ نفٹی ۱۸ء۰؍ فیصد بڑھ کر۲۴۰۵۶؍  پر بند ہوا۔

یہ بھی پڑھئے:راج ببر نے ہندی کے ساتھ پنجابی فلموں میں بھی نام کمایا


مزید برآں، خام تیل کی کم قیمتوں اور بہتر غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے اشارے کی وجہ سے اس ہفتے ہندوستانی روپیہ مضبوط ہوا۔ تاہم، سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید تبدیلیوں کے امکان کے بارے میں محتاط رہے  کیونکہ یہ عالمی سرمائے کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK