Updated: September 09, 2026, 6:44 PM IST
| Bhopal
مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں آدیواسی بچوں کی اموات اور صحت کے بحران کی رپورٹنگ کرنے والے تین آزاد صحافیوں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس کی عارضی معطلی نے آزادیٔ صحافت اور انتظامی دباؤ کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ مونیکا سنگھ، بندو گرجَر اور لوک بھدر سنگھ کے اکاؤنٹس پیر کو معطل کیے گئے، جو بدھ کی صبح بحال ہوگئے، تاہم انسٹاگرام یا میٹا کی جانب سے معطلی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ صحافیوں کے اکاؤنٹس کی معطلی پر پریس کلب آف انڈیا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی صحت کے بحران کی گراؤنڈ رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دئیے جانے کے خدشے پر غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
اے آئی سی سی سیکریٹری صحافیوں کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ ضلع میں آدیواسی بچوں کی اموات اور صحت کے بحران کی زمینی رپورٹنگ کرنے والے ۳؍ آزاد صحافیوں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس پیر کو مختصر مدت کے لیے معطل کردیے گئے۔ مونیکا سنگھ، بندو گُرجَر اور لوک بھدر سنگھ کے اکاؤنٹس بدھ کی صبح بحال ہوگئے، تاہم اکاؤنٹس کی معطلی کی وجہ کے بارے میں انسٹاگرام یا میٹا کی جانب سے کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تینوں صحافی بالاگھاٹ کے قبائلی علاقوں میں بچوں کی اموات کے بعد ہونے والے احتجاج، اسپتالوں میں مبینہ بدانتظامی اور آشا کارکنوں کو درپیش مشکلات سمیت مختلف پہلوؤں کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔ اکاؤنٹ بحال ہونے کے بعد لوک بھدر سنگھ نے الزام عائد کیا کہ صحافیوں کو ہراساں کرکے ان کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اپنی رپورٹنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: گوندیا بالاگھاٹ شاہراہ پر ٹرک اور پک اَپ میں تصادم، ۶؍ افراد ہلاک
اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب پریس کلب آف انڈیا نے ۸؍ ستمبر کو تینوں صحافیوں کے اکاؤنٹس معطل کیے جانے کی مذمت کی۔ پریس کلب نے کہا کہ صحافی ایک ایسے عوامی صحت کے بحران کی گراؤنڈ رپورٹنگ کررہے تھے جس میں آدیواسی برادری کے بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔ تنظیم نے صحافیوں کے کام کو دبانے یا انہیں خاموش کرانے کی کسی بھی کوشش پر تشویش ظاہر کی۔ پریس کلب کے مطابق صحافیوں نے تقریباً ۳؍ ماہ کے دوران ۳۱۱؍ بچوں کی مبینہ اموات سے متعلق شکایات کی رپورٹنگ کی تھی۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ بالاگھاٹ میں رپورٹنگ کے دوران ضلع حکام کی جانب سے صحافیوں پر نجی ملاقات کے لیے مبینہ دباؤ ڈالا گیا۔ ملاقات سے انکار کے بعد انہیں مبینہ طور پر ہوٹل کے کمرے خالی کرنے کو کہا گیا، جبکہ سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکاروں کی جانب سے ان کا تعاقب اور ۲؍ دن تک نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی شکایت بھی سامنے آئی۔ پریس کلب نے ان تمام واقعات کی غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چالان سے بچنے کا طریقہ! کارکی نمبر پلیٹ ایک میکانیزم کے ذریعے چھپا دی گئی
بالاگھاٹ میں بچوں کی بیماری اور اموات کا معاملہ گزشتہ کئی ہفتوں سے زیر بحث ہے۔ اسکرول (Scroll) کی زمینی رپورٹ کے مطابق بالاگھاٹ کے بیرسا بلاک کے متعدد قبائلی دیہات میں کم از کم ۲۵؍ بچوں کی اموات کا تعلق ممکنہ خسرہ اور ملیریا کے پھیلاؤ سے سامنے آیا، جبکہ مقامی رکن اسمبلی اور صحت حکام نے مرنے والے بچوں کی تعداد ۲۹؍ بتائی۔ سرکاری ریکارڈ میں متعدد بچوں کو مناسب طبی امداد ملنے سے پہلے ہی گھروں میں جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مرکزی حکومت کی تازہ تحقیقات نے تاہم کسی ایک بیماری یا جراثیم کو تمام اموات کی واحد وجہ قرار نہیں دیا۔ حکام کے مطابق مختلف بچوں میں خسرہ، ملیریا، مشترکہ انفیکشن، سانس کی شدید تکلیف، پانی کی کمی، غذائی قلت، خون کی کمی اور صدمے جیسے متعدد طبی مسائل پائے گئے ہیں۔ اس لیے حکومت ہر موت کا الگ طبی جائزہ لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جرنگے کی حمایت میں ہنگولی میں سیاسی پروگراموں کا بائیکاٹ
حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بالاگھاٹ میں ۳۲؍ ہزار ۴۳۳؍ افراد کا طبی معائنہ کیا جاچکا ہے اور نگرانی کا دائرہ تقریباً ۵۰؍ دیہات تک بڑھایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ۴۳۱؍ بچوں کو علاج کے لیے اسپتالوں میں داخل کیا گیا، جن میں سے ۳۷۹؍ کو صحت یاب ہونے کے بعد رخصت کیا جاچکا ہے جبکہ ۵۲؍ بچے اب بھی زیر علاج یا نگرانی میں ہیں۔ ایک ہفتے سے خسرہ کا کوئی نیا معاملہ سامنے نہ آنے کے باوجود نگرانی اور علاج کا عمل جاری ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں اضافی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ایک سے ۱۰؍ سال عمر کے ۱۴؍ ہزار ۶۳۷؍ بچوں کو ان کی سابقہ ویکسینیشن کی حیثیت سے قطع نظر خسرہ۔روبیلا ویکسین کی اضافی خوراک دی گئی ہے، جبکہ ۶؍ موبائل طبی یونٹ دور دراز قبائلی بستیوں میں خدمات فراہم کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اُرن: دادری تا جے این پی ٹی ڈبل ڈیکر مال بردار ٹرین کا افتتاح
صحافیوں کے اکاؤنٹس کی معطلی کا واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بالاگھاٹ میں میڈیا کی سرگرمیوں پر انتظامی اقدامات بھی توجہ کا مرکز بنے۔ گزشتہ ہفتے ضلع انتظامیہ نے اسپتالوں کے اندر فوٹوگرافی پر پابندی کا حکم جاری کیا تھا، لیکن چند گھنٹوں بعد اسے واپس لے لیا گیا۔ ضلع کلکٹر کمار ستیَم نے وضاحت کی کہ حکم عجلت میں جاری ہوا تھا اور اس کا مقصد احتجاج کو محدود کرنا تھا، میڈیا کوریج کو روکنا نہیں۔