• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ، ہندوستان کے لیے بڑا تیل بحران

Updated: September 11, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اور تیز اضافے نے ہندوستان کے لیے ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

Oil Ship.Photo:INN
آئل شپ۔ تصویر:آئی این این

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اور تیز اضافے نے ہندوستان کے لیے ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں کے باعث برینٹ کروڈ  کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے اور۱۰؍ ستمبر کو یہ ۶۳ء۱۰۷؍ ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو مئی کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ امریکی ڈبلیو ٹی آئی  کروڈ  بھی۴۸ء۱۰۲؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ 
ہندوستان اپنی خام تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملک کے درآمدی بل، روپے کی قدر اور مہنگائی پر اثر ڈالتا ہے۔ تازہ صورتحال میں ہندوستانی خام تیل باسکٹ کی قیمت بھی ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر چکی ہے۔ ۷؍ ستمبر کے آس پاس ہندوستانی  باسکٹ کی قیمت ۰۷ء۱۰۱؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو مئی کے بعد پہلی بار اس سطح سے اوپر گئی۔ 
موجودہ بحران کی سب سے بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ہے۔ آبنائے ہرمزعالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے عام حالات میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور گیس گزرتی ہے۔ حالیہ حملوں اور سیکوریٹی خدشات کے باعث اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سپلائی میں رکاوٹ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’شک: ٹرسٹ نو ون‘‘ کا ٹریلر جاری، پرینیتی چوپڑا کا او ٹی ٹی پرداخلہ

خام تیل مہنگا ہونے کا مطلب ہندوستان کے لیے زیادہ ڈالر خرچ کرنا ہے۔ اس سے ملک کے تجارتی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ہوتا ہے تو درآمدی تیل مزید مہنگا پڑتا ہے۔ ۱۱؍ستمبر ۲۰۲۶ءکو ہندوستانی روپیہ ۵۵ء۹۵؍ فی ڈالر پر بند ہوا اور ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً ۱ء۱؍ فیصد کمزور ہوا، جس میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو ایک اہم وجہ قرار دیا گیا۔ 
خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہونے کی صورت میں پیٹرول، ڈیزل، ایوی ایشن فیول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی لاگت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے مجموعی مہنگائی کا خطرہ پیدا ہوگا۔ ہندوستان پہلے ہی ۲۰۲۶ء میں تیل کی قیمتوں میں بڑے اتار چڑھاؤ کا سامنا کر چکا ہے۔ مئی میں حکومت نے عالمی بحران کے اثرات کو صارفین تک منتقل ہونے سے روکنے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں ۱۰؍ روپے فی لیٹر کمی کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ 
 بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث ۲۰۲۶ء میں عالمی تیل سپلائی میں کمی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ایجنسی نے اندازہ لگایا ہے کہ عالمی تیل سپلائی میں روزانہ ۷ء۵؍ ملین بیرل تک کمی واقع ہو سکتی ہے جبکہ ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’میں بطور ایتھلیٹ ختم ہو چکی ہوں‘‘، ونیش پھوگاٹ

ہندوستان کے لیے موجودہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں طویل عرصے تک اضافہ اقتصادی ترقی، مہنگائی، روپے کی قدر اور سرکاری مالیات پر بیک وقت دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم نہیں ہوتی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی معمول پر نہیں آتی تو عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں کے مزید بلند رہنے کا خطرہ موجود ہے۔  خام تیل کا ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر جانا ہندوستان کے لیے محض عالمی مارکیٹ کی خبر نہیں بلکہ  درآمدی بل سے لے کر روپیہ، مہنگائی، صنعت اور عام صارف تک اثر ڈالنے والا ایک بڑا معاشی چیلنج  بن چکا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK