Updated: May 16, 2026, 9:59 PM IST
| New Delhi
شکوہ پور زمین سودے سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں Robert Vadra کو روز ایونیو کورٹ سے ضمانت مل گئی، جبکہ انہوں نے ای ڈی پر حکومت کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ واڈرا نے کہا کہ انہیں عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے اور وہ ہر قانونی کارروائی میں تعاون کرتے رہیں گے۔
رابرٹ واڈرا۔ تصویر: آئی این این
کاروباری شخصیت رابرٹ واڈرا نے سنیچر کو شکوہ پور زمین سودے سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں روز ایونیو کورٹ سے ضمانت حاصل کر لی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے اور الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) حکومت کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔ سینئر وکیل دیودت کماٹ، وکلاء پرتیک چڈھا اور اکشت گپتا کے ساتھ، عدالت میں وادرا کی نمائندگی کیلئےپیش ہوئے۔ پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کے تحت کیس کی سماعت کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونے کے بعد وادرا نے عدالتی نظام پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا، تاہم ، ای ڈی پر تنقید بھی جاری رکھی۔ وادرا نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’مجھے ملک کے عدالتی نظام پر یقین ہے۔ میں جانتا ہوں کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو حکومت چلا رہی ہے، اور ای ڈی حکومت کی ہدایات پر ہی کام کرتی رہے گی۔ میرے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں۔ میں ہمیشہ یہاں موجود رہوں گا اور ہر سوال کا جواب دوں گا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: تاریخ کی ایک کتاب میں کمال مولیٰ مسجد کا تذکرہ
خود کو ’بے خوف‘ قرار دیتے ہوئے وادرا نے کہا کہ وہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں اور کیس کی پیش رفت کے دوران تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے۔ ای ڈی کی جانب سے وکیل ظہیب حسین نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عرضی قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہے۔ جسٹس منوج جین نے مزید سماعت کیلئے معاملہ ۱۸؍مئی تک ملتوی کر دیا۔
شکوہ پور زمین سودہ کیس کیا ہے؟
یہ معاملہ فروری ۲۰۰۸ء کے ایک زمین کے سودے سے متعلق ہے، جس میں اسکائی لائٹ ہاسپیٹیلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، ایک کمپنی جس میں وادرا پہلے ڈائریکٹر تھے، نے شکوہ پور میں تقریباً۳ء۵؍ ایکڑ زمین۷ء۵؍ کروڑ روپے میں خریدی تھی۔ بعد ازاں ۲۰۱۲ء میں یہ زمین رئیل اسٹیٹ کمپنی ڈی ایل ایف کو۵۸؍ کروڑ روپے میں فروخت کر دی گئی، جس سے زمین کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ای ڈی کے مطابق یہ لین دین جرائم سے حاصل شدہ رقم کو چھپانے اور مختلف مراحل سے گزارنے کی ایک بڑی اسکیم کا حصہ تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ اس عمل کے دوران غیر معمولی فوائد فراہم کیے گئے، جن میں زمین کی فوری منتقلی (میوٹیشن) اور ترقیاتی اجازت ناموں کا اجرا شامل تھا، جس سے زمین کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا۔