ادھو ٹھاکرے نے واضح کردیا کہ میٹنگ سے اگر کوئی ایم پی غیر حاضر رہا تو سخت کارروائی کی جائے گی ، سنجے رائوت کی پریس کانفرنس ،’’ باغیوں‘‘کو سخت سست کہا۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 9:16 AM IST | Mumbai
ادھو ٹھاکرے نے واضح کردیا کہ میٹنگ سے اگر کوئی ایم پی غیر حاضر رہا تو سخت کارروائی کی جائے گی ، سنجے رائوت کی پریس کانفرنس ،’’ باغیوں‘‘کو سخت سست کہا۔
مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (یو بی ٹی) میں ممکنہ اندرونی اختلافات اور بعض اراکین پارلیمان کے دوسرے گروپ میں شامل ہونے کی افواہوں نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ اسی دوران پارٹی نے اپنے تمام اراکین پارلیمنٹ کو نوٹس بھیج کر جمعرات کی صبح ہونے والی میٹنگ میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔اس دوران شیوسینا (ادھو ) کے راجیہ سبھا رکن سنجے رائوت نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی کے اراکین پارلیمان کو خریدنے کے لئے فی رکن ۱۵؍ کروڑ روپے ابتدائی پیشکش کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فی الحال پارٹی کو کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے اور قیادت اس صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
پارٹی کی میٹنگ
پارٹی قیادت نے اس بحران کے پیش نظر جمعرات کی صبح ۱۱؍بجے ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے۔ ناراض یا باغی سمجھے جانے والے اراکین پارلیمان کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر وہ اجلاس میں شرکت نہیں کرتے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ادھو ٹھاکرے گروپ کے رکن پارلیمنٹ اور چیف وہپ انل دیسائی کے لیٹر ہیڈ سے جاری کردہ نوٹس میں بالکل واضح کردیا گیا ہے کہ پارٹی کے تمام اراکین پارلیمنٹ کو میٹنگ میں شریک ہونا پڑے گا ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی پارٹی کے بعض لوک سبھا اراکین سے ٹیلی فون نہیں ہو رہا ہے کیوں کہ ان لوگوں اپنے فون بند کردئیے ہیںجبکہ کچھ لیڈروں نے انہیں ’’ناقابلِ رسائی‘‘ قرار دیا ہے، جس سے اندرونی اختلافات کی خبروں کو مزید تقویت ملی ہے۔
شریکانت شندے کا رول !
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ ادھو ٹھاکرے گروپ کے بعض ایم پی دہلی میں شندے گروپ کے رکن پارلیمنٹ شریکانت شندے کی رہائش گاہ پر ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس اجلاس میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی موجودگی کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو اسے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جائے گا، کیونکہ اس کے نتائج شیوسینا (یو بی ٹی) کے مستقبل اور ریاست کی سیاسی صف بندی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
سنجے رائوت کی برہمی بھری پریس کانفرنس
مہاراشٹر ایک بار پھر سیاسی ہلچل کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ شیوسینا یو بی ٹی میں بغاوت کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ پارٹی کے کچھ اراکین پارلیمنٹ اس وقت مہاراشٹر میں ہیں اور کچھ دہلی میں۔ ان حالات میں پارٹی لیڈر سنجے راؤت نے نئی دہلی واقع اپنی رہائش پر پریس کانفرنس کی۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ یہ ’آپریشن ٹائیگر‘ ہے۔میڈیا کے ذریعہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ یہاں یو بی ٹی کے لوک سبھا لیڈر اروند ساونت، چیف وہپ انل دیسائی اور ناسک کے رکن پارلیمنٹ راجابھاؤ موجود ہیں۔ میں اب بھی یہ مانتا ہوں کہ ہمارے تمام اراکین پارلیمنٹ ہمارے ساتھ ہیں۔
باغیوں کو سخت وارننگ
سنجے راؤت نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی کے کچھ اراکین پارلیمنٹ ممبئی میں ہیں جبکہ کچھ دہلی میں ہیں ۔انہوں نےباغی اراکین پارلیمنٹ کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایک نے سائی بابا کی قسم کھائی تھی، ایک نے ماں بھوانی کی قسم کھائی تھی، ایک نے اپنی ماں کی قسم کھائی تھی اور ایک دیگر نے اپنی ماں اور بیٹی دونوں کی قسم کھائی تھی ۔ اس کے باوجود اگر کوئی شیوسینا چھوڑ کر گیا تو ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔