نقل مکانی پر مجبور ہونے والے بچوں کو تعلیم کے میدان میں سب سے زیادہ مسائل ، رپورٹ کے مطابق بے گھر بچوں کی اگلی جماعت میں ترقی کی شرح کم ہوتی ہے اور ان کی تعلیمی پیش رفت سست رہتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 25, 2026, 3:19 PM IST | New York
نقل مکانی پر مجبور ہونے والے بچوں کو تعلیم کے میدان میں سب سے زیادہ مسائل ، رپورٹ کے مطابق بے گھر بچوں کی اگلی جماعت میں ترقی کی شرح کم ہوتی ہے اور ان کی تعلیمی پیش رفت سست رہتی ہے۔
بحران زدہ علاقوں میں فروغ تعلیم کے اقوام متحدہ کے زیراہتمام قائم کردہ عالمی فنڈ’ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ‘ (ای سی ڈبلیو) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات، جبری نقل مکانی اور موسمیاتی آفات کے باعث۲۵؍ کروڑ ۸۰؍ لاکھ بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔بحرانوں میں بچوں کے تعلیمی نقصان کے موضوع پر فنڈ کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں لاکھوں بچوں کے کئی تعلیمی سال ضائع ہو سکتے ہیں اور ان کے مستقبل کے مواقع کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔یہ رپورٹ دنیا کی انتہائی غیرمحفوظ اور بحران زدہ آبادیوں میں بڑھتے ہوئے تعلیمی بحران کی جامع تصویر پیش کرتی ہے جس کے مطابق، متاثرہ بچوں میں سے تقریباً۹؍ کروڑ۳۰؍ لاکھ بچے سرے سےا سکول نہیں جاتے۔ مزید لاکھوں بچے ایسے مشکل حالات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو ان کی تعلیمی ترقی کو متاثر کرتے ہیں اور بالآخر ان کےا سکول چھوڑنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ بہت سے بچوں کے لئے اب صرف کمرہ جماعت میں موجودگی اس بات کی ضمانت نہیں کہ انہیں واقعی معیاری تعلیم مل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ساتھ تنازع کے بعد میلونی تعلقات معمول پر لانے کی خواہشمندا
ای سی ڈبلیو کے ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ انتہائی سنگین بحرانوں کا شکار ۲۰؍ علاقوں میں رہنے والے۱۸؍ کروڑ۲۰؍ لاکھ بچوں میں سے۷؍کروڑ۴۰؍ لاکھ اسکول سے باہر ہیں۔ یہ تعداد جائزے میں شامل تمام بحران زدہ اورا سکول سے محروم بچوں کا تقریباً ۸۰؍ فیصد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی محرومی صرف اسکول تک رسائی نہ ہونے کا نام نہیں۔ بہت سے بحران زدہ علاقوں میں بچے ابتدائی جماعتوں میں ہی بنیادی تعلیمی مہارتوں سے محروم رہ جاتے ہیں اور بعد میں اس خلا ءکو پورا نہیں کر پاتے۔
بعض علاقوں میں ابتدائی تعلیمی درجات کے صرف۱۰؍ فیصد سے بھی کم بچے پڑھنے کی بنیادی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ تعلیمی خلاء مزید بڑھتا جاتا ہے اور آخرکار بچوں کے اسکول میں برقرار رہنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
نقل مکانی پر مجبور ہونے والے بچوں کو تعلیم کے میدان میں سب سے زیادہ مسائل درپیش ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بے گھر بچوں کی اگلی جماعت میں ترقی کی شرح کم ہوتی ہے اور ان کی تعلیمی پیش رفت سست رہتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، لڑکیوں، تارکین وطن بچوں اور جسمانی معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں غیر متناسب حد تک زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تنازعات اور مسلح جھڑپیں تعلیمی نقصان کو مزید شدید اور طویل المدتی بنا دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور
تنازعات سے متاثرہ ممالک میں صرف ۳۰؍فیصد بچے چھٹی جماعت میں پہنچنے تک پڑھنے سے متعلق مطلوبہ سطح کی مہارت حاصل کر پاتے ہیں۔ سماجی و معاشی بحرانوں سے متاثرہ ممالک میں یہ شرح۴۷؍ فیصد ہے جو قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک میں ۶۳؍ فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود بہت سے خاندان تعلیم کی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مالی مشکلات اور تنازعات کے باعث ا سکولوں کا بند ہونا اسکول چھوڑنے کے تقریباً۸۰؍ فیصد واقعات کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ای سی ڈبلیو کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر میسا جلبوت نے کہا کہ جنگیں اور موسمیاتی تبدیلی کئی برس کی تعلیمی پیش رفت کو روک رہی ہیں اور اگر فوری سرمایہ کاری نہ کی گئی تو یہ تعلیمی نقصانات مستقل شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ان کے مطابق ای سی ڈبلیو نے اپنے قیام سے اب تک ایک کروڑ۴۰؍ لاکھ سے زیادہ بحران زدہ بچوں کو تعلیمی مدد پہنچائی ہے جبکہ۲۰۳۰ء تک مزید ایک کروڑ بچوں کو تعلیمی مواقع فراہم کئے جائیں گے۔