Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنگاپور کی عدالت نے بائجوز رویندرن کی اپیل مسترد نہیں کی : کمپنی

Updated: July 15, 2026, 3:14 PM IST | New Delhi

ایڈٹیک کمپنی بائجوز (بائجوز) نے منگل کو واضح کیا کہ اس کمپنی کے بانی بائجوز رویندرن کی جانب سے سنگاپور کی عدالت کے حکم کو چیلنج کرنے والی اپیل مسترد ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹس گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔

Byjus Raveendran.Photo:INN
بائجوس رویندرن۔ تصویر:آئی این این

ایڈٹیک کمپنی  بائجوز (بائجوز)  نے منگل کو واضح کیا کہ اس کمپنی کے بانی  بائجوز رویندرن  کی جانب سے سنگاپور کی عدالت کے حکم کو چیلنج کرنے والی اپیل مسترد ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹس گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔کمپنی نے کہا کہ  سول توہینِ عدالت (Civil Contempt)  کے فیصلے کے خلاف رویندرن کی اصل اپیل اب بھی  سنگاپور کورٹ آف اپیل  میں زیرِ سماعت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:گووندا نے سات سال بعد نئی فلم ’’روپا‘‘ کے ساتھ واپسی کا اعلان کر دیا


کمپنی کے مطابق۹؍ جولائی  کو سنگاپور ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت صرف اس درخواست تک محدود تھی، جس میں  ۲۵؍مئی ۲۰۲۶ء کو جاری کیے جانے والے  سول توہینِ عدالت کے حکم پر عارضی روک ( اِسٹے ) لگانے کی استدعا کی گئی تھی  تاکہ کورٹ آف اپیل میں مرکزی اپیل پر فیصلہ آنے تک اس حکم پر عمل درآمد روکا جا سکے۔ کمپنی نے کہا کہ ہائی کورٹ نے صرف  اسٹے کی درخواست  مسترد کی ہے۔ عدالت نے نہ تو اصل اپیل کی سماعت کی اور نہ ہی اسے مسترد کیا۔
کمپنی نے اپنے بیان میں کہاکہ ’’۹؍جولائی کی سماعت کا تعلق ۲۵؍ مئی ۲۰۲۶ء کے سول توہینِ عدالت کے حکم کو کالعدم قرار دینے والی اصل اپیل سے نہیں تھا۔ یہ صرف ہائی کورٹ کے پہلے سے جاری حکم پر عارضی روک لگانے کی درخواست تک محدود تھی، جب تک کورٹ آف اپیل مرکزی اپیل پر اپنا فیصلہ نہیں سنا دیتی۔  کمپنی نے مزید کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ بائجوز رویندرن عدالت کے حکم کو منسوخ کرانے کی کوشش میں ناکام ہو گئے ہیں کیونکہ سول توہینِ عدالت کے حکم کے خلاف ان کی بنیادی اپیل اب بھی کورٹ آف اپیل میں زیرِ التوا ہے۔
بائجوز کا کہنا ہے کہ رویندرن کے پاس اب بھی کورٹ آف اپیل سے مناسب عبوری راحت  حاصل کرنے کا قانونی اختیار موجود ہے۔کمپنی کے مطابق بعض میڈیا رپورٹس نے اسٹے کی درخواست  اور اصل اپیل کو ایک ہی قانونی کارروائی سمجھ لیا، حالانکہ قانوناً دونوں مکمل طور پر الگ الگ مراحل ہیں۔ کمپنی نے ان خبروں کو بھی غلط قرار دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئے عدالتی حکم کے بعد بائجوز رویندرن اب سنگاپور واپس نہیں جا سکتے۔ کمپنی کے مطابق اس قانونی صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
بائجوز رویندرن اور کمپنی کے بانیوں کے سینئر قانونی مشیر  جے مائیکل میک نٹ  نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی نیا اہم قانونی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’۹؍جولائی کو سنگاپور ہائی کورٹ نے صرف ۲۵؍  مئی ۲۰۲۶ء کے سول توہینِ عدالت کے حکم پر عارضی روک لگانے کی درخواست مسترد کی ہے۔ یہ فیصلہ مقدمے کے میرٹ پر نہیں بلکہ صرف وقت اور عبوری ریلیف کے معاملے سے متعلق تھا۔ 
انہوں نے بتایا کہ بائجوز رویندرن اس وقت سنگاپور میں موجود نہیں ہیں اور یہ بھی طے نہیں کہ وہ کب یا آیا وہاں جائیں گے بھی یا نہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ فی الحال اس معاملے میں فوری فیصلہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر مستقبل میں وہ سنگاپور جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس وقت عدالت سے مناسب ریلیف طلب کیا جا سکتا ہے۔ میک نٹ نے واضح کیا کہ یہ معاملہ جاری ثالثی (Arbitration) کی کارروائی کے دوران مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرنے سے متعلق تنازع کے باعث پیدا ہونے والی  سول توہینِ عدالت  سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھئے:تیز گیندباز جسپریت بمراہ نے انگلینڈ میں ریکارڈ قائم کیا


انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی  فوجداری مقدمہ  نہیں ہے، نہ ہی عدالت نے بائجوز رویندرن کے خلاف فریب  دہی، بددیانتی، فنڈز کے غلط استعمال یا کسی ذاتی بدعنوانی کا کوئی نتیجہ اخذ کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس عدالتی حکم کا اطلاق  سنگاپور سے باہر کسی دوسرے ملک  میں نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK