سنگا پور پولیس نے عدالت کو بتایا کہ زوبین گرگ انتہائی نشے کی حالت میں بنا لائف جیکٹ پہنے تیرنے گئے تھے، مزید یہ کہ خودکشی کا کوئی رجحان نہیں تھا، اور ان کی موت سے پہلے ان پر کسی قسم کا دباؤ یا زبردستی نہیں کی گئی تھی۔
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 10:03 PM IST | Kuala Lumpur
سنگا پور پولیس نے عدالت کو بتایا کہ زوبین گرگ انتہائی نشے کی حالت میں بنا لائف جیکٹ پہنے تیرنے گئے تھے، مزید یہ کہ خودکشی کا کوئی رجحان نہیں تھا، اور ان کی موت سے پہلے ان پر کسی قسم کا دباؤ یا زبردستی نہیں کی گئی تھی۔
اسٹریٹس ٹائمز کے مطابق، سنگاپور پولیس نے بدھ کو عدالت میں بتایا کہ زوبین گرگ انتہائی نشے کی حالت میںتھے اور ستمبر میں تیراکی کرتے ہوئے ڈوبنے کے وقت انہوں نے لائف جیکٹ پہننے سے انکار کر دیا تھا۔سنگاپور پولیس کوسٹ گارڈ کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈیوڈ لِم نے یہ بیان ایک کورونر انکوائری میں گواہی دیتے ہوئے دیا۔واضح رہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں یہ ایک حقیقت کا تعین کرنے کا عمل ہوتا ہے جس میں کسی شخص کی موت کی وجوہات اور حالات کا پتہ لگایا جاتا ہے۔مشہور آسامی گلوکار زوبین گرگ۱۹؍ ستمبر کو سنگاپور میں ایک یاٹ ٹرپ کے دوران انتقال کر گئے تھے، اس سے ایک دن قبل وہاں شمال مشرقی ہندوستان فیسٹیول میں ان کی پرفارمنس طے تھی۔۲۰؍ ستمبر کو سنگاپور کے حکام نے جاری کردہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں گرگ کی موت کی وجہ ڈوبنا بتائی تھی۔بدھ کے روز لِم نے کہا کہ گواہوں نے بتایا کہ گارگ میں خودکشی کا کوئی رجحان نہیں تھا اور موت سے پہلے ان پر کسی قسم کا دباؤ یا زبردستی نہیں کی گئی تھی۔
سنگاپور کے اخبار کے مطابق، لِم نے کہا کہ ’’یاٹ کے کپتان کی بار بار یاد دہانی کے باوجود انہوں نے لائف جیکٹ نہیں پہنی تھی۔‘‘پولیس افسر نے کہا کہ گرگ بغیر لائف جیکٹ کے یاٹ سے دور تیرنا شروع کر دیا تھا، حالانکہ یاٹ پر موجود دوسرے افراد نے انہیں واپس آنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔لِم کے حوالے سے بتایا گیا کہ’’ اچانک وہ بے حرکت ہو گئے اور اُن کا منہ پانی میں تھا۔‘‘لِم نے مزید کہا کہ گواہوں نے ان کے منھ سے جھاگ نکلتے دیکھا تھا۔گارگ کو یاٹ پر واپس لایا گیا، جہاں انہیں کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن دی گئی اور۳؍ بج کر ۳۶؍ منٹ پر ایمرجنسی کال کی گئی۔ لِم نے بتایا کہ پولیس کوسٹ گارڈ کا جہاز۱۰؍ منٹ سے بھی کم وقت میں واقعے کے مقام پر پہنچ گیا تھا۔انہیںاسپتال لے جایا گیا، جہاں شام ۵؍ بج کر۱۳؍ منٹ پران کی موت ہو گئی۔
بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گرگ کے جسم میں۱۰۰؍ ملی لیٹر خون میں۳۳۳؍ ملی گرام الکوحل پائی گئی، جس سے ان کے توازن پر اثر پڑا ہوگا۔ جبکہ سنگاپور میں ڈرائیونگ کے دوران الکوحل کی حد ۱۰۰؍ملی لیٹر خون میں۸۰؍ ملی گرام ہے۔ ہندوستان میں یہ مقدار۱۰۰؍ ملی لیٹر خون میں۳۰؍ ملی گرام ہے۔تاہم عدالت میں گواہوں کے موبائل فون سے ریکارڈ کیے گئے ویڈیوز بھی چلائے گئے، جن میں گرگ کو اپنی لائف جیکٹ اتارتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔۱۹؍ دسمبر کو سنگاپور پولیس نے دہرایا کہ انہیں گرگ کی موت میں کوئی مشکوک حرکت نظر نہیں آتی۔ انہوں نے اکتوبر میں بھی اسی قسم کا بیان دیا تھا۔
اسی دوران ہندوستان کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے۱۲؍ دسمبر کو گوہاٹی کی عدالت میں چارج شیٹ جمع کرائی، جس میں گرفتار شدہ سات افراد میں سے چار پر قتل کا الزام عائد کیا گیا۔آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے بار بار دعویٰ کیا ہے کہ گرگ کی موت حادثاتی نہیں بلکہ ایک قتل تھا۔اس پروگرام کی تنظیم جہاں گلوکار کو پرفارم کرنا تھا، ہندوستانی حکومت اور سنگاپور میں ہندوستانی ہائی کمیشن نے آسام ایسوسی ایشن اور شمال مشرقی ہندوستان ایسوسی ایشن کی مدد سے کی تھی۔
دریں اثناء ایس آئی ٹی کی طرف سے قتل کے الزام میں چارج کیے گئے چار افراد میں شمال مشرقی ہندوستان فیسٹیول کے آرگنائزر شیامکانو مہانتا، گرگ کے منیجر سدھارتھ شرما اور دو میوزیشن شامل ہیں جو’ یاٹ‘ پر گلوکار کے ساتھ تھے - شکارجیوتی گوسوامی اور امریت پرور مہانتا۔زوبین گارگ کے کزن، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سندیپان گرگ، جو ان کے ساتھ سنگاپور گئے تھے، پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے، جبکہ گلوکار کے دو ذاتی سیکورٹی افسران پر مجرمانہ غفلت کا الزام ہے۔