سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ نے جمعہ کو خبردار کیا کہ عالمی توانائی اور سپلائی چین کا بحران آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے کافی عرصے بعد تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی کم ہونے کے باوجود منڈیوں کو مستحکم ہونے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 02, 2026, 2:06 PM IST | Singapore
سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ نے جمعہ کو خبردار کیا کہ عالمی توانائی اور سپلائی چین کا بحران آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے کافی عرصے بعد تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی کم ہونے کے باوجود منڈیوں کو مستحکم ہونے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔
سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ نے جمعہ کو خبردار کیا کہ عالمی توانائی اور سپلائی چین کا بحران آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے کافی عرصے بعد تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی کم ہونے کے باوجود منڈیوں کو مستحکم ہونے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ ۱۶۰۰؍سے زائد یونین لیڈروں اور سہ فریقی شراکت داروں پر مشتمل مئی ڈے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وونگ نے کہا کہ آبنائے کی بندش اور ایران و امریکہ کے درمیان وسیع تر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والا یہ بحران سنگاپور کے لیے حالیہ برسوں کا شدید ترین بیرونی جھٹکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیا خاص طور پر متاثر ہو رہا ہے کیونکہ یہ خطہ خلیج سے توانائی اور دیگر اہم اشیاء پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ان کے مطابق علاقے کے کچھ ممالک کو پہلے ہی ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سینٹ کوم چیف کا ایران پر حملے کا آخری آپشن پیش، ایران کا فضائی دفاعی نظام فعال
بعد ازاں وونگ نے خبردار کیا کہ راستہ کھلنے کے باوجود توانائی کے ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان، بارودی سرنگوں جیسے بحری خطرات، اور محفوظ جہاز رانی کے راستوں پر اعتماد بحال کرنے کی ضرورت کے باعث معمول پر آنے میں تاخیر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ گھرانے اور کاروبار مشکل دور کے لیے تیار رہیں، دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دو ماہ سے زائد عرصے سے بند ہے، جس سے ایشیا میں ایندھن کی قلت اور رسد کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر حملے شروع کیے، جس کے جواب میں ایران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز بند کردی۔حالانکہ پاکستان کی ثالثی سے۸؍ اپریل کو جنگ بندی کا اعلان ہوا، اور۱۱؍ اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے، لیکن کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کردی۔