• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کے ’ستیہ گرہ آندولن‘ میں شدت

Updated: October 06, 2026, 3:40 PM IST | Agency | Pune

این سی پی(ایس پی) کےلیڈر روہت پوار طلبہ کےشانہ بشانہ دھرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے اور دیگر لیڈران بھی مظاہرہ گاہ پہنچے۔

A photo of the ongoing protest near the S.M. Joshi Bridge, in which Rohit Pawar and other representatives can be seen. Photo: INN
ایس ایم جوشی بریج کے پاس جاری احتجاج کی تصویر، جس میں روہت پوار اور دیگر نمائندہ افراد دیکھے جاسکتےہیں۔ تصویر: آئی این این

یہاں ۳؍ مقامات پر مختلف مطالبات کے تحت ایم پی ایس سی کے امیدوار اور طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی ہے۔ان کے بنیادی مطالبات میں ایم پی ایس سی امتحانات کو آبجیکٹو یا ڈسکرپٹو فارمیٹ میں کرانے، ایم پی ایس سی کے چیئرمین وویک بھیمنوار کا استعفیٰ شامل ہے۔ان  امیدواروں نے امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

اب تک این سی پی (شردپوار) ،کانگریس پارٹی ، شیوسینا(یوبی ٹی ) اور مہاراشٹر نونرمان سینا کے ساتھ اپوزیشن کی سبھی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے حمایت کا اعلان کیاجاچکا ہے۔ ایک طرف جہاں این سی پی(شردپوار) کے لیڈراور رکن اسمبلی  روہت پوار احتجاج کو تقویت دینے کیلئے مظاہرہ گاہ میں خیمہ زن ہیں، وہیں مختلف لیڈران الگ الگ دن دورے کرکے طلبہ کے ساتھ یگانگت اور یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے پیر کو پونے کا دورہ کیا اور ایم پی ایس سی امیدواروں کی مظاہرہ گاہ پہنچ کر خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھئے:نئی دہلی: الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف اپوزیشن کا مارچ پولیس نے روکا، ارکان حراست میں

ہندومسلمان کی سیاست سے باہر نکلیں: راج ٹھاکرے

راج ٹھاکرے نے طلبہ سے کہا کہ ذات پات اور ہندومسلمان کی سیاست میں مت پڑو۔   ان میں آپ کو الجھا کر روک دیا جاتا ہے۔ اگر آپ کا وقت اسی میں گزر گیا تو کل اپنے ماں باپ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ ہم ذات پات کے چکر میں پڑ گئے ہیں۔ ہم ہندو مسلمان کے معاملے میں الجھ گئے ہیں۔ سب سے پہلے آپ ان  سب سے باہر نکلو۔راج ٹھاکرے نے آگے کہا کہ ’’آج  مراٹھواڑا سے بہت سے نوجوان پونے میں پڑھنے کیلئے  آئے ہوئے ہیں۔ وہ روزانہ محنت سے پڑھائی کر رہے ہیں، لیکن ان کے نصیب میں صرف پیپر لیک  ہی آتا ہے۔ آپ کا یہ جذبہ اسی طرح ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔  راج ٹھاکرے  نے کہا کہ۷۰؍ ہزار نوجوانوں کی سرکاری بھرتی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، لیکن یہ نہیں ہوگا۔ یہ بات یاد رکھیں۔ اگر دوسری حکومت بھی آ جائے تو بھی یہ مطالبہ پورا نہیں ہو سکتا۔ حالات کو سمجھیں، حقیقت کو سمجھیں۔ ہاں میں پرزور تائید کرتا ہوں کہ نوجوانوں کو نوکریاں ملنی ہی چاہئیں۔ راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ میں گزشتہ۲۲؍ برسوں سے مسلسل کہتا آ رہا ہوں کہ مہاراشٹر کی نوکریاں مہاراشٹر کے ہی لڑکوں اور لڑکیوں کو ملنی چاہئیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو ایسے احتجاج کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن سرکاری نوکریاں ہیں کہاں؟ جو کچھ بھی دستیاب ہے، وہ آہستہ آہستہ نجی شعبے میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔  مرکز میں جو حکومت بیٹھی ہے،وہ  ایئرپورٹ ہو یا پورٹ، جو کچھ نظر آیا  وہ  ’اڈانی کو دے دو‘، یہی سلسلہ چل رہا ہے۔ سب کچھ نجی ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:راجیہ سبھا انتخابات کیلئے سرگرمیاں تیز، یوپی میں دسویں سیٹ بی جے پی اور سماجوادی کیلئے ٹیڑھی کھیربنی

راہل گاندھی کا ۷؍یا ۸؍اکتوبر کو پونےدورہ 

  لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی۷؍ یا۸؍ اکتوبر کو پونے کا دورہ کر کے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن(ایم پی ایس سی) میں اصلاحات کے مطالبے کے تحت احتجاج کرنے والے طلبہ اور امیدواروں سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ یہ بات این سی پی (شرد چندر پوار) کے رکن اسمبلی اور اس احتجاج میں اہم کردار ادا کرنے والے روہت پوار نے کہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ یوتھ کانگریس کی مقامی ٹیم بھی احتجاج کررہی ہے اور وہ دہلی کی آئی وائی سی ٹیم کے ساتھ رابطے میں ہے۔ 

اِٹس ڈن برو!: روہت پوارکا فرنویس حکومت کو طنز

روہت پوار نےکہا کہ ’’اب تک تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لیڈر احتجاجی مقام پر آ چکے ہیں۔ کسی سیاسی لیڈرکو مدعو نہیں کیا جا رہا، بلکہ وہ خود آ رہے ہیں۔ میں ریاستی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ ایم پی ایس سی  چیئرمین کے استعفے کے معاملے پر فیصلہ کرے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ”اگر ریاستی حکومت کابینہ کی میٹنگ میں طلبہ کے حق میں فیصلہ نہیں کرتی تو ہمیں کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔“روہت پوار نے حکومت کو خبردار کرنے کے لیے جین زی کے لب و لہجے میں کہا کہ’’یُو آر ڈن برو!‘‘یعنی اگر حکومت احتجاج کرنے والے امیدواروں کے ساتھ مؤثر طریقے سے بات چیت نہیں کرتی تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK