مہا وکاس اگھاڑی کے وفد کی ریاستی الیکشن کمشنر سے ملاقات ، میمورنڈم پیش، ایس آئی آر میں شفافیت اور غیرجانبداری برتنے کا مطالبہ ۔
میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر میں ۳۰؍ جون سے ’ایس آئی آر ‘ شروع ہونے والا ہے۔ مہاراشٹر بھی مغربی بنگال جیسا حال نہ ہواور ایس آئی آر غیر جانبداری سے ہواس کیلئےمہاوکاس اگھاڑی کے ایک وفد نے بدھ کوریاستی چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے ملاقات کی۔ وفد نے افسر کو میمورنڈم پیش کیا جس میں ، خصوصی طور پر ممبئی میںری ڈیولپمنٹ کی وجہ سے جو مکین دوسری جگہ منتقل کئے گئے ہیں ان کے نامو ں کو ووٹر لسٹ سے نہ کاٹنے اور کسی سیاسی دباؤ کے بغیر سروے کرنے جیسے مطالبات کئے گئے ہیں۔ اس وفد میں مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال، شیو سینا ( ادھو) کے آدتیہ ٹھاکرے، این سی پی ( شرد) کے ریاستی صدر ششی کانت شندے، سینئر لیڈر جینت پاٹل ،کانگریس کے ترجمان سچن ساونت، سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ، شیو سینا (ادھو) کے رکن کونسل امباداس دانوے اور دیگر شامل تھے۔
الیکشن کمشنر سے ملاقات کےبعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی جس میں آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ’’ ایس آئی آر پر دنیا بھر میں کافی بحث ہو رہی ہے کیونکہ مغربی بنگال کے انتخابات ہویا بہار کے ، بی جے پی نے ایس آئی آر کے بل بوتے پر ہی جیتے ہیں۔ گزشتہ ۳؍ تا ۴؍ برسوں میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب الیکشن شفاف طریقے سے منعقد نہیں ہورہا ہےاور ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہمارے ملک میں جمہوریت باقی نہیں رہی۔بدقسمتی سے اب ایسا کہنا پڑرہا ہے کہ کبھی ہمارے ملک میں جمہوری نظام تھا اور انتخابات غیر جانبداری سے منعقد ہوتے تھے۔آج کی تاریخ میں الیکشن کمیشن بی جے پی کے دفتر سے کام کر رہا ہے۔‘‘ انہوںنے کہا کہ’’ ہم ایس آئی آر کے معاملے میں ہفتہ وارالیکشن کمیشن سے ملاقات کرتے رہیں گے اور عوام کو درپیش مسائل سے مطلع کرتے رہے ہیں۔‘‘
سچن ساونت نے کہاکہ ’’ممبئی کے متعدد مسائل پر الیکشن کمشنر سےگفتگوکی گئی جن میں خاص طور پر ممبئی میں جاری ری ڈیولپمنٹ کے کام کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی۔ ہم نے ریاستی الیکشن کمشنر سے دریافت کیا کہ ری ڈیولپمنٹ ہونے کے سبب کئی شہریوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیاہے، ان کا ایس آئی آر کیسے ہوگا؟ اس پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔الیکشن کمشنر نے ہمیں اس بارے میں غور وخوض کرنے کےبعد جواب دینے کا یقین دلایا ہے۔ایس آئی آر شروع کرتے ہوئے انہیں شہر کے اتنے بڑے او ر اہم مسئلہ کو نظر انداز کرنا ٹھیک نہیں۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ ’’ الیکشن کمیشن کا دعویٰ تھاکہ اب تک ۷۰؍ فیصد ووٹروں کی میپنگ ہو چکی ہے جبکہ ہماری اطلاع کے مطابق ۴۰؍ تا ۴۵؍ فیصد ہی میپنگ ہوئی ہے اس لئے ہم نے الیکشن کمیشن سے اسمبلی حلقہ کےاعتبار سے میپنگ کی تفصیل طلب کی ہے جسے انہوں نے دینا کا یقین دلایا ہے۔‘‘
سچن ساونت نے مزید کہا کہ’’ہماری اطلاع کے مطابق بی جے پی کے ۵۲؍ ہزار سے زیادہ بی ایل اے کا انتخاب ہو چکا ہے اور ان کے مقصد بی جے پی مخالف ووٹروں کے نام منسوخ کرنا ہے۔‘‘
ششی کانت شندے نے کہاکہ ’’ ہم نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس آئی آر میں کسی بھی سیاسی دباؤ کے تحت بی ایل او سے کام نہ لیاجائے بلکہ غیر جانبداری سے سروے کیا جائے۔‘‘ انہوںنے کہا کہ ’’ مہاراشٹر میں ابھی ۳؍ سال بعد الیکشن منعقد ہونے والے ہیں اس لئے ایس آر آئی کرنے مدت بڑھائی جائے تا کہ کسی صحیح ووٹر کا نام ووٹر لسٹ سے خارج نہ ہو۔‘‘