Updated: May 26, 2026, 10:58 AM IST
| Rome
اطالوی لگژری کار ساز Ferrari پیر کو اپنی پہلی مکمل الیکٹرک سپر کار ’’لوس‘‘ متعارف کرانے جا رہی ہے، جو کمپنی کے لیے ایک نئے دور کی شروعات سمجھی جا رہی ہے۔ ۳۱۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار رکھنے والی اس چار دروازوں والی کار کی قیمت پانچ لاکھ یورو سے زیادہ ہے۔ کمپنی کو امید ہے کہ الیکٹرک ٹیکنالوجی کے باوجود وہ اپنی مخصوص ڈرائیونگ فیل اور برانڈ شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گی۔
اطالوی لگژری اسپورٹس کار ساز Ferrari اپنی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی ’’لوس‘‘ متعارف کرا کے ایک نئے اور غیر یقینی دور میں قدم رکھنے جا رہی ہے، ایسے وقت میں جب دنیا کی کئی بڑی اسپورٹس کار کمپنیاں ای وی مارکیٹ کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہی ہیں۔ ’’لوس‘‘، جس کا اطالوی زبان میں مطلب ’’روشنی‘‘ ہے، پیر کو باضابطہ طور پر پیش کی جائے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ چار دروازوں والی الیکٹرک سپر کار ۳۱۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اس کی قیمت پانچ لاکھ یورو یعنی تقریباً ۵؍ لاکھ ۸۶؍ ہزار ڈالر (ساڑھے پانچ کروڑ روپے سے زائد) سے زیادہ رکھی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس گاڑی کے ڈیزائن میں Jony Ive کے اسٹوڈیو LoveFrom نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’لوس‘‘ روایتی فیراری ماڈلز سے مختلف اور نسبتاً بڑی گاڑی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے : ۲۰۲۶ء میں عالمی الیکٹرک کار فروخت ۲۳؍ ملین تک پہنچنے کا امکان: آئی ای اے رپورٹ
کنسلٹنسی فرم گرانٹ تھورنٹن اسٹیکس کے مینیجنگ ڈائریکٹر فل ڈن نے کہا، ’’یہ ایک بڑا رسک اور کسی حد تک شرط ہے، لیکن فیراری راستہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ فیراری کئی برسوں سے الیکٹریفکیشن پر کام کر رہی تھی۔ کمپنی نے ۲۰۱۹ء سے ہائبرڈ روڈ ماڈلز متعارف کرانا شروع کیے تھے، جبکہ اس سے قبل فارمولا ون میں بھی ہائبرڈ ٹیکنالوجی استعمال کی جا چکی تھی۔ کمپنی کے سی ای او بینیدیتو ویگنا کی قیادت میں فیراری نے الیکٹرک ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس میں اٹلی کے شہر مارنیلومیں نئی ’’E-Building‘‘ کی تعمیر بھی شامل ہے۔
تاہم الیکٹرک اسپورٹس کاروں کے مستقبل پر اب بھی سوالات موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق فیراری نے کمزور مانگ کے باعث اپنے دوسرے مکمل الیکٹرک ماڈل کو کم از کم ۲۰۲۸ء تک مؤخر کر دیا ہے، جبکہ اطالوی حریف لیمبورگنی نے بھی صارفین کی کم دلچسپی کی وجہ سے ۲۰۳۰ء میں متوقع ای وی لانچ کا منصوبہ ترک کر دیا۔
دوسری جانب چینی کمپنیاں تیزی سے جدید ای وی سپر کاریں تیار کر رہی ہیں۔ BYD نے حال ہی میں Yangwang U9 متعارف کرائی، جسے اپنی منفرد صلاحیتوں جیسے ’’چھلانگ لگانے‘‘ اور ’’ڈانس کرنے‘‘ کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل ہوئی۔ آٹو انڈسٹری تجزیہ کار فلپ منزو کے مطابق فیراری ’’لوس‘‘ سے بڑے پیمانے پر فروخت کی توقع نہیں رکھتی بلکہ اسے ایک ’’بیان‘‘ کے طور پر پیش کر رہی ہے تاکہ لگژری ای وی کے تصور کو نئی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہوسکتا ہے ابھی ای وی سپر کار کی فوری ضرورت نہ ہو، لیکن الیکٹریفکیشن طویل مدت کا مستقبل ہے، اور فیراری کو اپنی سمت واضح کرنا ہوگی۔‘‘ فیراری کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی روایتی شناخت کو برقرار رکھنا ہے، کیونکہ اس کے شائقین ہمیشہ طاقتور انجن کی آواز، رفتار اور ڈرائیونگ احساس کو برانڈ کی اصل پہچان سمجھتے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہو سکتا ہے : بی پی سی ایل کا اشارہ
اسی لیے ’’لوس‘‘ میں ایک خصوصی ساؤنڈ سسٹم شامل کیا گیا ہے، جو پاور ٹرین کی کمپن کو بڑھا کر ایک منفرد ’’الیکٹرک فیراری آواز‘‘ پیدا کرے گا، بجائے اس کے کہ مصنوعی انجن شور شامل کیا جائے۔ فل ڈن کے مطابق، ’’لوگ فیراری کے ساتھ تین چیزیں جوڑتے ہیں: اس کی آواز، اس کی شکل، اور اس کا احساس۔ اب کمپنی کو یہ سب کچھ ایک نئے انداز میں پیش کرنا ہوگا۔‘‘ فیراری نے اپنے برقی اہداف میں بھی تبدیلی کی ہے۔ کمپنی اب توقع کر رہی ہے کہ ۲۰۳۰ء تک اس کی مکمل الیکٹرک گاڑیاں کل لائن اپ کا تقریباً ۲۰؍ فیصد ہوں گی، جبکہ پہلے یہ ہدف ۴۰؍ فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ کمپنی ہائبرڈ اور روایتی پٹرول انجن والی گاڑیاں بھی جاری رکھے گی۔ ماہرین کے مطابق ’’لوس‘‘ نوجوان اور نئی نسل کے خریداروں کو متوجہ کر سکتی ہے، جو ای وی کے لیے زیادہ کھلے ذہن رکھتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی الیکٹرک گاڑیوں کی کشش بڑھا دی ہے۔
فیراری کے سی ای او ویگنا نے رواں برس فروری میں بتایا تھا کہ ’’لوس‘‘ کے لیے پری آرڈرز مارچ میں کھولے جائیں گے اور ابتدائی صارفین کی جانب سے ’’بہت مثبت‘‘ ردعمل ملا ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ گاڑی فیراری کے تمام روایتی مداحوں کو متاثر نہیں کرے گی۔ فل ڈن نے کہا، ’’یہ یقیناً ہر فیراری خریدار کو پسند نہیں آئے گی، لیکن کچھ لوگ ضرور اسے پسند کریں گے۔‘‘