Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’تو کیا ہوا اَگر میں مسلمان ہوں‘‘، بنگال میں تھیٹر آرٹسٹ پر مذہب پوچھ کر تشدد

Updated: August 10, 2026, 10:09 AM IST | Kolkata

شبھانکر داس شرما نے بتایا کہ بدمعاشوں نے ان کی مذہبی شناخت پوچھ کرانہیں بری طرح پیٹا مگر ان کا سوال یہ تھا کہ کیا مسلمان ہونا جرم ہے؟

Artist Shubhankar Das Sharma. Photo: INN
آرٹسٹ شبھانکر داس شرما۔ تصویر: آئی این این

ملک میں فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور شرپسندی کس سنگین حد تک پہنچ چکی ہے اس کااندازہ مغربی بنگال میں ہوئی اس واردات سے ہوتا ہےکہ جس میںکچھ بدمعاشوںنے ایک تھیٹرآرٹسٹ کواس کا مذہب پوچھ کرتشدد کا نشانہ بنایا۔مغربی بنگال کے شمالی۲۴؍پرگنا ضلع میں ایک تھیٹر آرٹسٹ نے الزام لگایا ہے کہ اسے چار بدمعاشوں نے روکا اور اس کا مذہب پوچھ کر وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا ۔ بدمعاشوں کو فنکار کےمسلمان ہونے کا شبہ تھا کیونکہ اس نے سیاہ کرتہ اور پائجامہ پہن رکھا تھا۔شبھانکرر داس شرما نے بتایا کہ  ان کے ساتھ یہ واردات۲۸؍ جولائی کی رات اگرپارہ ریلوے اسٹیشن کے قریب اس وقت  ہوئی جب وہ  ایک پروگرام کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔شرما کے مطابق، چاروں افراد نے انہیں راستے میں روکا اور ان کے کپڑے دیکھ کر ان سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگے۔انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ مسلمان ہیں۔ اس پر انہو ںنے  جواب دیا کہ کیا ہوا اگرمیںمسلمان ہوں۔ انہوںنے بدمعاشوںسے یہ بھی کہا یہ ایک آزادملک ہے اوراس ملک میں وہ اجنبیوں کواپنا مذہب بتانے کے پابندنہیں ہیں۔شبھانکر داس شرما کے  مطابق ان کے اس جواب سے بدمعاش مشتعل ہوگئےاورانہیںبری طرح پیٹنے لگےاورمسلسل اس کی مذہبی شناخت پوچھتے رہےمگر انہو ںنے یہ نہیں بتایاکہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں نے محسوس کیاکہ صرف اپنے آپ کو بچانے کیلئے یہ کہنا گناہ ہوگا کہ میں ہندو ہوں،اسی لئے میں نے ان سےپوچھا کہ کیا مسلمان  ہونا جرم ہے۔شرما نے الزام لگایا کہ ان  کے چہرے ، آنکھوں اور سینے پر لاتوں اور گھونسوں سے مارا گیا اور زمین پر گرا کر ان کا کرتہ پھاڑ دیا گیا۔ شبھانکر نے یہ بھی الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے اسے مارتے ہوئے شرانگیز مذہبی نعرے لگائے۔شبھانکر داس شرما نے کہا کہ حملے کے دوران وہ کچھ دیر کیلئے ہوش کھو بیٹھے تھے۔ ہوش میں آنے کے بعد وہ کسی طرح گھر واپس آئے۔  ابتدائی طور پر انہوں نے واقعے کو عام نہیں کیا کیونکہ وہ خوفزدہ تھے اور ا نہیں  امید تھی کہ یہ معاملہ بڑا تنازع بنے بغیر مقامی طور پر حل ہو جائے گا۔ انہوں نے ابتدا میں خاموشی اختیار کی مگر بعدمیں سوشل میڈیا پر اپنی تصویر شیئر کی جس میں ان کی  آنکھوںاور چہرے پرسوجن  صاف دیکھی جاسکتی ہے۔شرما نے نوا پارہ پولیس اسٹیشن میںشکایت درج کرائی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK