غیرقانونی تعمیرات، انتظامی امور میں بے قاعدگی سے متعلق تفصیل معلوم کرنے کیلئے ۷۲؍خطوط بھیجنے کے باوجود شہری انتظامیہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 11:50 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan
غیرقانونی تعمیرات، انتظامی امور میں بے قاعدگی سے متعلق تفصیل معلوم کرنے کیلئے ۷۲؍خطوط بھیجنے کے باوجود شہری انتظامیہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔
بلدیاتی اداروں میں شفافیت کے دعوے کس حد تک کاغذی ثابت ہوتے ہیں، اس کی ایک واضح مثال کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) میں سامنے آئی ہے۔ شہری انتظامیہ کی مبینہ بے حسی اور معلومات چھپانے کی پالیسی کے خلاف بالآخر تنگ آ کر ایک معروف سماجی کارکن نے کے ڈی ایم سی کے صدر دفتر کے سامنے احتجاجاً دھرنا شروع کر دیا۔
سماجی کارکن شری نواس گھانیکر نے ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے تحت ہونے والی غیر قانونی تعمیرات اور مختلف دفتری و انتظامی امور میں مبینہ بے قاعدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی معلومات طلب کی تھیں۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے باضابطہ کارروائی کرتے ہوئے شہری انتظامیہ کو ایک دو نہیں بلکہ پورے ۷۲ ؍خطوط ارسال کئے تھے لیکن انہیں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: پانی، سڑک، نالوں اور اسٹریٹ لائٹ کے مسائل پر احتجاج
گھانیکر نے کارپوریشن کے اعلیٰ حکام پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہینوں گزر جانے کے باوجود ان خطوط میں سے کسی ایک کا بھی تحریری جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔ انہوں نے کارپوریشن کے اس سست روی، غیر ذمہ دارانہ رویے اور لاپروائی کے خلاف منگل کو میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر میں بیٹھ کر دھرنا دیا۔
احتجاج کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شری نواس گھانیکر نے سخت موقف اختیار کیا کہ اگر کارپوریشن انتظامیہ نے اس پرامن احتجاج کا بروقت نوٹس نہ لیا اور معلومات کی فراہمی میں کوتاہی جاری رکھی تو وہ انصاف کے حصول کیلئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ مقامی شہریوں اور سیاسی و سماجی حلقوں کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ میونسپل کمشنر اورشہری انتظامیہ اس احتجاج کا کیا نوٹس لیتا ہے اور گھانیکر کے اٹھائے گئے معاملات پر کیا ٹھوس پیش رفت ہوتی ہے۔