• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چیک جمہوریہ میں ۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

Updated: February 11, 2026, 3:58 PM IST | Prague

چیک جمہوریہ میں ۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز زیر غور ہے، اس سے قبل حکومت نے نوجوانوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مضر اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

چیک جمہوریہ  حکومت پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کی وجہ نوجوانوں پر آن لائن پلیٹ فارم کے اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی  تشویش ہے۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعظم اینڈریج بابس نے کہا کہ ان کی حکومت فرانس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس اقدام پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔بابس نے کہا کہ بچوں کو نقصان سے بچانے کے لیے فوری عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں پابندی کے حق میں ہوں، کیونکہ تمام ماہرین کہتے ہیں کہ یہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مہاجر مخالف احتجاج کے بیچ رپورٹ: ہندوستانی کمیونٹی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی

دریں اثناء نائب وزیر اعظم کریل ہولیسک نے کہا کہ ممکنہ پابندی کو کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے اس بابت  حکومت نے پہلے ہی ماہرین اور ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹرز کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال کے آخر میں اس سلسلے میں قانون سازی پیش کی جا سکتی ہے۔ہولیسک نے سی این این پرائما نیوز پر ایک بحث کے دوران کہا، ’’ہم یقینی طور پر اس میں تاخیر نہیں کریں گے اور اس سال ہی پابندی عائد کرنا چاہیں گے۔ وقت ضائع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سوشل نیٹ ورکس بچوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہے ہیں؛ یہ ایک وبا بنتی جارہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: امیگریشن عدالت نے فلسطین حامی رومیسا اورترک کی جلاوطنی کا مقدمہ خارج کیا

واضح رہے کہ چیک جمہوریہ میں یہ بحث اس وقت ہو رہی ہے جب کئی دیگر ممالک نے بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی کو محدود کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔آسٹریلیا نے پچھلے دسمبر میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی لگا دی تھی، یاد رہے کہ فرانس نے پچھلے مہینے پندرہ سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے والا قانون منظور کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK