صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ میں ’مداخلت‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے علاحدگی پسند خطے سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: February 09, 2026, 5:56 PM IST | Mogadishu
صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ میں ’مداخلت‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے علاحدگی پسند خطے سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔
عرب میڈیا کو دیئےگئے ایک انٹرویو میں صومالی صدر حسن شیخ محمود نے کہا کہ صومالیہ کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی اڈا قائم کیا جائے اور ایسی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ اسرائیلی اڈا پڑوسی ممالک پر حملوں کیلئے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ صومالی صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی سفارتی حکمت عملی کو غیر ذمہ دارانہ، غلط اور بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی موجودگی کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ `ہم اپنی استطاعت کے مطابق لڑیں گے۔ ظاہر ہے ہم اپنا دفاع کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی بھی اسرائیلی فورس کا سامنا کریں گے جو یہاں آنے کی کوشش کرے گی، کیونکہ ہم اس کے خلاف ہیں اور ہم ہرگز اس کی اجازت نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان: اسنیپ الیکشن میں سانائے تاکائچی کی تاریخی فتح، عالمی لیڈران کی مبارکباد
صومالی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب دسمبر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر خطے میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ صومالی لینڈ صومالیہ کا علاحدگی پسندوں کا علاقہ ہے، یہ خطہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک پر واقع ہے اور قرن افریقہ میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اسرائیل کا یہ اقدام اسے دنیا کا پہلا ملک بناتا ہے جس نے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ یہ اسرائیلی فیصلہ اس رپورٹ کے چند ماہ بعد سامنے آیا تھا جس میں خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا تھا کہ اسرائیلی حکام نے صومالی لینڈ کے بعض حکام سے رابطہ کیا تھا تاکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کیلئے اس علاقے کے استعمال پر بات چیت کی جا سکے۔ اگرچہ اسرائیل اور صومالی لینڈ دونوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے تاہم جنوری میں صومالی لینڈ کی وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون کے ایک اہلکار نے اسرائیل کے چینل ۱۲؍ کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوجی اڈے کا قیام `زیر غور ہے اور اس پر بات ہو رہی ہے۔