Updated: July 28, 2026, 4:03 PM IST
| Tarouba
ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان جاری دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن کھیل نے کئی ڈرامائی موڑ لیے۔ ایک جانب ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر جسٹن گریوز نے تباہ کن گیندبازی کرتے ہوئے ۵؍ وکٹ حاصل کئےتو دوسری جانب پاکستان کے تیز گیندبازوں، خصوصاً محمد عباس، نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔
ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان جاری دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن کھیل نے کئی ڈرامائی موڑ لیے۔ ایک جانب ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر جسٹن گریوز نے تباہ کن گیندبازی کرتے ہوئے ۵؍ وکٹ حاصل کئےتو دوسری جانب پاکستان کے تیز گیندبازوں، خصوصاً محمد عباس، نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ دن بھر میں مجموعی طور پر ۱۴؍وکٹ گریں اور میچ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے:یہ بھی پڑھئے:’’سدارمیا کا انتخابی سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ حتمی ہے‘‘
پاکستان نے دن کا آغاز ۱۹۹؍ رنز پر دو وکٹوں سے کیا اور وہ ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کے۳۱۱؍ رنز سے ۱۱۲؍ رنز پیچھے تھا۔ کپتان شان مسعود نے عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنی ساتویں ٹیسٹ سنچری مکمل کی اور ۱۰۹؍ رنز بنائے۔ انہوں نے سلمان آغا کے ساتھ اہم شراکت قائم کرکے ٹیم کو ابتدائی مشکلات سے نکالا۔ سلمان آغا کو ابتدا میں ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا تھا، لیکن ریویو کے بعد فیصلہ تبدیل ہوگیا۔ تاہم اس کے بعد شمر جوزف نے ان کا آف اسٹمپ اڑا دیا۔
اس کے بعد جسٹن گریوز نے شاندار اسپیل کرتے ہوئے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ انہوں نے مسلسل چار میڈن اوورز کرائے اور شان مسعود، عامر جمال، علی عثمان اور محمد عباس سمیت پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ محمد رضوان بھی زیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکے اور وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔ پاکستان نے صرف ۱۵؍ رنز کے اندر پانچ اہم وکٹیں گنوا دیں اور پوری ٹیم ۲۸۲؍ رنز پر آل آؤٹ ہوگئی، جس کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں ۲۹؍ رنز کی برتری حاصل ہوئی۔
دوسری اننگز میں پاکستان کے تیز گیندبازوں نے شاندار آغاز کیا۔ نئی گیند سے محمد عباس نے برینڈن کنگ اور کیویم ہوج کو صرف چار گیندوں کے اندر پویلین بھیج دیا۔ محمد علی اور عامر جمال نے بھی عمدہ گیندبازی کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ چائے کے وقفے تک میزبان ٹیم شدید دباؤ میں آ چکی تھی۔
وقفے کے بعد شائی ہوپ نے جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کی، لیکن محمد علی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ تیجنارائن چندرپال نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا، تاہم وہ بھی عامر جمال کی مختصر گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہوگئے۔ جسٹن گریوز بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور بابر اعظم نے کور پر ان کا شاندار کیچ لیا، جبکہ روسٹن چیز بھی جلد پویلین لوٹ گئے۔
ویسٹ انڈیز کا اسکور ایک مرحلے پر ۹۳؍ رنز پر سات وکٹیں تھا، تاہم شمر جوزف نے ایک مرتبہ پھر جارحانہ انداز اپناتے ہوئے عامر جمال کے ایک اوور میں تین چھکے لگا کر پاکستان پر دباؤ کم کیا۔ ان کے ساتھ کیمار روچ نے بھی مفید ساتھ دیا اور دونوں نے آٹھویں وکٹ کے لیے ناٹ آؤٹ ۳۳؍ رنز کی شراکت قائم کی۔
یہ بھی پڑھئے:یہ بھی پڑھئے:’’اداکار وہی کامیاب ہوتا ہے جو خود کو مسلسل بہتر بناتا رہتا ہے‘‘
تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک ویسٹ انڈیز نے سات وکٹوں کے نقصان پر ۱۲۶؍ رنز بنا لیے تھے اور اس کی مجموعی برتری ۱۵۵؍رنز تک پہنچ گئی تھی۔ خراب ہوتی پچ کے پیش نظر چوتھے دن دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان کم سے کم اسکور پر ویسٹ انڈیز کو سمیٹ کر ہدف آسان رکھنے کی کوشش کرے گا۔