Updated: February 09, 2026, 3:01 PM IST
| Tokyo
جاپان میں ہونے والے قبل از وقت انتخابات میں وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے تاریخی اور فیصلہ کن کامیابی حاصل کر کے اپنی قیادت کو مضبوط کر لیا ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی ان کی جماعتی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہوئی، جسے عوامی مینڈیٹ کا مضبوط اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کامیابی پر مودی، ٹرمپ سمیت دیگر عالمی لیڈران نے مبارکباد پیش کئے ہیں ۔
سانائے تاکائچی کامیابی کے بعد مسرور نظر آرہی ہیں۔ تصویر: ایکس
جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے سردیوں میں ہونے والے غیر معمولی قبل از وقت انتخابات میں فیصلہ کن فتح حاصل کر لی ہے جس کے نتیجے میں ان کی قیادت مضبوط ہو گئی ہے اور انہیں واضح عوامی مینڈیٹ حاصل ہوا ہے۔ تاکائچی، جنہوں نے گزشتہ برس جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بن کر تاریخ رقم کی، نے یہ قبل از وقت انتخابات اپنی پالیسیوں کیلئے عوامی حمایت بڑھانے اور ایوانِ نمائندگان میں واضح اکثریت حاصل کرنے کیلئے کرائے تھے۔ ابتدائی نتائج اور ایگزٹ پولز کے مطابق، حکمران اتحاد جس کی قیادت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اس کی اتحادی جماعت جاپان انوویشن پارٹی (اشِن) کر رہی ہیں، ایک شاندار کامیابی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کے مطابق، اتحاد۴۶۵؍ رکنی ایوانِ زیریں میں اکثریت کیلئے درکار ۲۳۳؍نشستوں کی حد سے خاصا آگے ہے، اور اندازہ ہے کہ وہ۲۷۴؍ سے۳۲۸؍ نشستیں حاصل کر سکتا ہے۔
وزیرِاعظم مودی سمیت عالمی لیڈران کی مبارکباد کے پیغامات
ہندوستانی وزیرِاعظم نریندر مودی نے سانائے تاکائچی کو مبارکباد پیش کی۔ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیرِاعظم مودی نے کہا:’’ہماری خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’مجھے یقین ہے کہ آپ کی قابل قیادت میں ہم ہندوستان۔ جاپان دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ ‘‘
اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے بھی تاکائچی کو مبارکباد دی۔ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا:’’انتخابات میں نمایاں کامیابی پر وزیرِاعظم تاکائچی کو دلی مبارکباد۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ہمارے ممالک گہری دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری میں بندھے ہوئے ہیں، جو ہمارے درمیان اعتماد اور تعمیری تعاون کے باعث مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ ‘‘
دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار امریکی صدر نے جاپان کو مبارکباد پیش کی

دونالڈ ٹرمپ کی پوسٹ۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار (۸؍ فروری) کو جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کو قبل از وقت انتخابات میں ان کے اتحاد کی متوقع فتح پر مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی حمایت کرنا ان کیلئےاعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے تاکائچی کیلئے ’’عظیم کامیابی‘‘کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ وہ’ایک نہایت معزز اور مقبول لیڈر‘ ہیں، جبکہ قبل از وقت انتخابات کرانے کا ان کا ‘دلیرانہ اور دانشمندانہ فیصلہ ‘درست ثابت ہوا ہے۔ ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا کہ تاکائچی کی یہ کامیابی دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کی سب سے بڑی انتخابی فتح ہے۔
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا:’’میں آپ کو آپ کے قدامت پسند اور ’طاقت کے ذریعے امن‘ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں عظیم کامیابی کی دعا دیتا ہوں۔ جاپان کے شاندار عوام، جنہوں نے جوش و خروش سے ووٹ دیا، ہمیشہ میری مضبوط حمایت کے حقدار رہیں گے۔ ‘‘اس سے قبل، جب تاکائچی فتح کے قریب تھیں، تو انہوں نے صدر ٹرمپ کی عوامی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، جاپان۔ امریکہ اتحاد کو ’لامحدود‘ قرار دیا اور اس سال وہائٹ ہاؤس کے دورے کے منصوبے کی تصدیق کی۔ ٹرمپ نے ووٹنگ سے قبل بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’مضبوط اور محبِ وطن لیڈر‘ قرار دیا تھا۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی یہی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط جاپان ایشیا میں امریکہ کی پوزیشن کو مستحکم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی پیس بورڈ میں شامل نہیں ہوگا: وزیر خارجہ
سانائے تاکائچی کون ہیں ؟
جاپان کی’’آئرن لیڈی‘‘ کے لقب سے مشہور سانائے تاکائچی کوبے یونیورسٹی کی گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز ایک مصنفہ اور ٹیلی وژن براڈکاسٹر کے طور پر کیا، اس کے بعد سیاست میں قدم رکھا۔ ۶۴؍ سالہ تاکائچی اپنی صاف گو قیادت اور جارحانہ پالیسی ایجنڈے کے باعث جانی جاتی ہیں، جس نے نوجوان ووٹرز سمیت بڑی تعداد میں عوام کو متاثر کیا ہے۔ ان کے انتخابی منشور میں معاشی محرکات، ٹیکس میں ریلیف، قومی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور سخت امیگریشن پالیسیز شامل تھیں۔ ان کا ایک انتہائی مقبول وعدہ خوراک پر عائد۸؍ فیصد سیلز ٹیکس کو دو سال کیلئے معطل کرنا تھا جس کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنا تھا۔ یہ پالیسی اور دیگر معاشی اصلاحات ان ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہیں جو جمود زدہ اجرتوں اور مہنگائی کے دباؤ سے ناخوش تھے۔