Updated: July 18, 2026, 11:28 AM IST
| New Delhi
دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ ۲۱؍ دن سے جاری سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال سنیچر کی صبح ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی، جب دہلی پولیس انہیں طبی معائنے اور علاج کیلئے وی ایم ایم سی و صفدرجنگ اسپتال منتقل کرنے کیلئے لے گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ڈاکٹروں کے مشورے اور عدالت کی ہدایات کے مطابق کی گئی، جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے الزام لگایا ہے کہ وانگچک کو ان کی مرضی کے خلاف زبردستی احتجاجی مقام سے ہٹایا گیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
دہلی پولیس سونم وانگچک کو لے جاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ۲۱؍ روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک کو سنیچر کی صبح دہلی پولیس نے وی ایم ایم سی و صفدرجنگ اسپتال منتقل کر دیا۔ اس کارروائی کے بعد احتجاجی مقام پر کشیدگی پیدا ہوگئی اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکنوں نے پولیس کی کارروائی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے الزام عائد کیا کہ ’’سونم وانگچک کو ان کی مرضی کے خلاف زبردستی احتجاجی مقام سے اٹھا کر لے جایا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پولیس نے احتجاجی کارکنوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اور انہیں بھی دھکے دئیے گئے۔ اسی دوران دپکے نے اعلان کیا، ’’میں اسی لمحے سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رہا ہوں۔‘‘
دوسری جانب دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ سونم وانگچک کی صحت مسلسل بگڑ رہی تھی اور انہیں ڈاکٹروں کے مشورے پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ اقدام دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات اور طبی ماہرین کی سفارشات کے مطابق اٹھایا گیا تاکہ ان کی جان کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔ صفدرجنگ اسپتال کی جانب سے جاری طبی بیان میں کہا گیا، ’’وہ طویل عرصے سے جاری بھوک ہڑتال اور جسم میں پانی کی کمی کے باعث کمزور ہیں، تاہم اس وقت ان کی حالت مستحکم ہے۔ انہیں مسلسل نگرانی، طبی مشاہدے اور علاج کی ضرورت ہے تاکہ جسمانی نظام معمول پر لایا جا سکے۔‘‘ ادھر سونم وانگچک کی اہلیہ نے اسپتال منتقل کیے جانے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’انہیں اسپتال لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاندان کی رضامندی کے بغیر اس طرح کا فیصلہ مناسب نہیں تھا۔
سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ وانگچک کو احتجاجی مقام سے ہٹائے جانے کے باوجود ان کی تحریک ختم نہیں ہوگی۔ پارٹی کے مطابق احتجاج بدستور جاری رہے گا اور ۲۰؍ جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا اعلان بھی برقرار ہے۔ ابھیجیت دپکے نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کرتے رہیں۔
واضح ہو کہ سونم وانگچک ۲۸؍ جون سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ وہ سی جے پی کی حمایت میں مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہے تھے۔ ان کی طویل بھوک ہڑتال نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی اور سوشل میڈیا پر بھی اس کے حق میں وسیع مہم دیکھی گئی۔