روس سے تیل خریدنے والے ہندوستان، چین، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان پر امریکہ ۱۰۰؍ فیصد ٹیریف لگانے کی تیاری میں۔
EPAPER
Updated: July 18, 2026, 11:52 AM IST | New Delhi / Washington
روس سے تیل خریدنے والے ہندوستان، چین، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان پر امریکہ ۱۰۰؍ فیصد ٹیریف لگانے کی تیاری میں۔
امریکہ کے ۶۰؍ سینیٹرز نے ایک نئے بل کی حمایت کی ہے، جس میں ہندوستان سمیت ۵؍ ممالک پر روسی تیل خریدنے کی صورت میں صد فیصد تک ٹیرف (درآمدی محصول) عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹرز نے اس ہفتے کے آغاز میں واضح کیا تھا کہ یہ ٹیرف ہندوستان ،چین، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان پر لاگو ہوگا، کیونکہ یہ ممالک روسی تیل خرید رہے ہیں۔ جمعہ کو جاری کردہ ’’سینکشنگ رشیا ایکٹ آف ۲۰۲۶ء‘‘ نامی اس بل کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل ہے، اور بل کے حامیوں کے مطابق اسے اگست سے پہلےمنظور کیا جا سکتا ہے۔سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے اکثریتی لیڈر جان تھیون بھی اس بل کے اہم حامیوں میں شامل ہیں، جس سے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں اس کی منظوری کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس بل کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ روسی تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے ۵؍سب سے بڑے خریدار ممالک پر صد فیصدتک ٹیرف عائد کر سکے۔سینیٹرز نے مزید بتایا کہ یہ بل روس پر عائد پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے ۵؍ بڑے ممالک پر بھی ٹیرف لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، ٹیرف کی حتمی شرح امریکی تجارتی نمائندے(یو ایس ٹی آر) کی جانب سے مقرر کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، ۱۲؍ پیسے مضبوط ہوا
یورپی اتحادیوں کے لئے استثنا
بل میں یورپی اتحادیوں کیلئے نمایاں رعایت بھی رکھی گئی ہے، حالانکہ وہ اب بھی روس سے قدرتی گیس خرید رہے ہیں۔ بل کے متعلق عام کی گئی تفصیلات کے مطابق:وہ ممالک اس قانون سے مستثنیٰ ہوں گے جن کی روسی قدرتی گیس کی درآمدات، روس کی مجموعی قدرتی گیس برآمدات کا۱۵؍فیصد سے کم ہوں، اور جو ان درآمدات میں کمی کیلئے مؤثر اقدامات کر رہے ہوں۔ اسکے علاوہ، بل کے مطابق امریکی تجارتی نمائندہ ہر۱۸۰؍دن بعد روسی تیل اور گیس کے ۵؍ بڑے خریدار ممالک کا دوبارہ جائزہ لے گا اور ان کی خریداری میں تبدیلی کی بنیاد پر ٹیرف کی شرح میں ردوبدل کر سکے گا۔بل میںامریکہ کی جانب سے جوہری ری ایکٹروں میں استعمال ہونے والے کم افزودہ یورینیم کی خریداری کے لیے بھی استثنا شامل کیا گیا ہے۔
ہندوستان کی روسی تیل کی درآمدات میں اضافہ
جون میں ہندوستان کی روسی خام تیل کی درآمدات۳۴؍ فیصد ماہانہ اضافہ کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔جون میں ہندوستان نے۴ء۵؍ ارب یورومالیت کا روسی خام تیل خریدا۔ یہ روس کی کل خام تیل برآمدات کا تقریباً۳۶؍ فیصدتھا۔ سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے مطابق چین کے بعدہندوستان روسی خام تیل کا دوسرا بڑا خریداربن گیا۔جون میں واشنگٹن نے وہ جنرل لائسنس بھی ختم ہونے دیا، جس کے تحت ہندوستان سمیت کئی ممالک امریکی پابندیوں کا سامنا کیے بغیر روسی توانائی خرید سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: جیو کے ۱۶۰۰؍مواصلاتی سیٹیلائٹس کے مجوزہ نیٹ ورک کو تکنیکی منظوری
۲۰۲۵ء کے بل کے مقابلے میں نرم تجویز
یہ نیا بل، گزشتہ سال اپریل میں پیش کردہ’’سینکشنگ رشیا ایکٹ۲۰۲۵‘کے مقابلے میں نسبتاً نرم ہے۔ پچھلے بل میں روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر۵۰۰؍ فیصد تک ٹیرف لگانے کی تجویز تھی، جبکہ نئے بل میں: زیادہ سے زیادہ ٹیرف۵۰۰؍ فیصد سے کم کرکے۱۰۰؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔اس کا اطلاق تمام ممالک کے بجائے صرف روسی تیل یا گیس کے پانچ بڑے خریدار ممالک تک محدود کر دیا گیا ہے۔اس بل میں ایک اہم شق یہ بھی شامل ہے کہ امریکی صدر کسی ملک کو پابندیوں اور ٹیرف سے مشروط استثنا دے سکتے ہیں۔