Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کے۱۶؍ ڈاکٹراسرائیلی جیلوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا

Updated: July 18, 2026, 11:41 AM IST | Gaza

فلسطینی مرکز برائے دفاعِ اسیران نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل غزہ سے تعلق رکھنے والے۱۶؍ ڈاکٹروں کو انتہائی سخت اور غیر انسانی حالات میں قید رکھے ہوئے ہے۔

Palestinians are being mistreated in Israeli prisons. Photo: INN
اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں سے بدسلوکی کی جارہی ہے۔ تصویر: آئی این این

فلسطینی مرکز برائے دفاعِ اسیران نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل غزہ سے تعلق رکھنے والے۱۶؍ ڈاکٹروں کو انتہائی سخت اور غیر انسانی حالات میں قید رکھے ہوئے ہے۔ مرکز نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔مرکز نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اسیر ڈاکٹروں کو تنہائی، خاندان سے ملاقات اور رابطے کی ممانعت، بدسلوکی، بھوکا رکھنے، طبی غفلت اور سخت تشدد کا سامنا ہے جو قابل تشویش ہے۔ یہ اسرائیل کی انتقامی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ان فلسطینی طبی عملہ کو نشانہ بنانا ہے جو نسل کشی کی جنگ کے دوران زخمیوں اور مریضوں کے علاج کے لئے اپنے مقامات پر ڈٹے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی حملے میں چابہار کا مشہور ٹاور تباہ، ہندوستان کو نقصان کا خدشہ

مرکز نے تمام گرفتار فلسطینی ڈاکٹروں، اسیروں اور اسیرہ خواتین، بالخصوص بیماروں، بچوں اور انتظامی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل گرفتاری عالمی برادری اور انسانی حقوق کے دعویدار اداروں کیلئے ایک بد نما داغ ہے۔مرکز نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی جیلوںمیں قید ڈاکٹر انتہائی مشکل حالات میں رہ رہے ہیں۔ انہیں ملاقاتوں اور خاندان سے رابطے سے محروم رکھا گیا ہے، علاج، خوراک اور دیکھ بھال کی ضمانتوں کا فقدان ہے، اور ان کی صحت کی حالت کو جان بوجھ کر خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ یہ سب ان کی زندگی سے متعلق خدشات کو بڑھاتا ہے، خاص طور پر اسیر ڈاکٹروں پر تشدد اور دواؤں سے محرومی کی ثبوت سامنے آنے کے بعد۔مرکز نے واضح کیا کہ اسیر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ اور مروان الحمس کا کیس اسیر ڈاکٹروں کی تکالیف کی ایک واضح مثال ہے۔ پہلے ڈاکٹر کو تشدد، تنہائی اور دھمکیوں کا سامنا ہے، جبکہ دوسرے کو دوا، رابطے اور صحت کی بگڑتی ہوئی تشویشناک حالت کا سامنا ہے۔مرکز کے پاس موجود معلومات کے مطابق گرفتار ڈاکٹروں میں ڈاکٹر احمد شحادہ، ڈاکٹر محمود الحلاق، ڈاکٹر رائد مہدی، ڈاکٹر مراد القوقا، ڈاکٹر حمزہ ابو صلحہ، ڈاکٹر احمد موسیٰ، ڈاکٹر ناہض ابو طعیمہ، ڈاکٹر غسان ابو زہری، ڈاکٹر مصعب سمعان، ڈاکٹر حسن المقید، ڈاکٹر محمد عبید، ڈاکٹر اکرم ابو عودہ، ڈاکٹر مدحت ابو طبنجہ، ڈاکٹر عمر عمار، ڈاکٹر حسام ابو صفیہ اور ڈاکٹر مروان الحمس مشکلات کاشکار ہیں۔مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ ان ڈاکٹروں کو سلاخوں کے پیچھے رکھنا جبکہ غزہ اور فلسطین کو ہر ڈاکٹر اور ہر طبی ماہر کی ضرورت ہے، ایک دوہرا جرم ہے۔ اس کا نقصان صرف قید ڈاکٹر کو نہیں بلکہ ہزاروں مریضوں اور زخمیوں کو ہو رہا ہے جو ان کی مہارت اور دیکھ بھال سے محروم ہو گئے ہیں۔مرکز نے عالمی ادارہ صحت، ریڈ کراس، ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز، ڈاکٹرز یونینز اور بین الاقوامی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسیر ڈاکٹروں سے ملاقات، ان کی حراست کے حالات جاننے، علاج کی فراہمی اور ان کی فوری رہائی کے لئے فوری اور عملی اقدام  کریں۔ مرکز نے فلسطینی ڈاکٹروں کی حراست کے حالات اور ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس معاملے میں ہر تاخیر ان کی زندگی اور سلامتی کے لئےمزید خطرات کا باعث بنے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK