Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی افریقہ نےعالمی عدالت سے نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کیا

Updated: November 13, 2023, 12:28 PM IST | Agency | Gaza

وزیر خارجہ نیلیڈی پانڈور نےامید ظاہر کی کہ عالمی عدالت اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرے گی، آئرلینڈ میں بھی اسرائیلی سفیر کو بے دخل کرنے کی تیاری،اسی ہفتہ پارلیمنٹ میں اس تعلق سے ووٹنگ ہوگی،آسٹریلیا نے بھی اسرائیل سے اسپتالوں پر حملے فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

In South Africa, there is public and official sentiment against Israel and there are large-scale demonstrations for Palestine. Photo: INN
جنوبی افریقہ میں عوامی اور سرکاری سطح پراسرائیل کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں اور فلسطین کیلئے بڑےپیمانے مظاہرے ہورہے ہیں۔ تصویر : آئی این این

فلسطینیوں خاص طور پر غزہ کے شہریوں پر جاری اسرائیلی مظالم سےمختلف ممالک میں اس کے تعلق سے نفرت بڑھتی جارہی ہے اور مختلف ممالک اس پر اپنے اپنے حساب سے نکیل کسنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ایک جانب جہاں جنوبی افریقہ سےنیتین یاہو کی گرفتاری کی مطالبہ کیا جارہا ہے وہیں آئرلینڈ کی پارلیمنٹ میں اگلے ہفتہ اسرائیلی سفیر کو بے دخل کئے جانے کے تعلق سے قرارداد پر ووٹنگ کی جائے گی وہیں آسٹریلیا نے بھی اس سے اسپتالوں پر حملے بند کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔
جنوبی افریقہ میں نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ
 جنوبی افریقہ کے سنڈے ٹائمزمیں شائع ہونے والے ایک رائے شماری میں ملک کی وزیر خارجہ نیلیڈی پانڈور کاکہنا ہے کہ وہ توقع کرتی ہیں کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرے گی۔پنڈورنےلکھا،’’ہم (آئی سی سی کے) پروسیکیوٹر سے تحقیقات کو تیزکرنے اور آئی سی سی کے دائرہ اختیار کے تحت ۴؍میں سے ۳؍جرائم کی خلاف ورزیوں کا پتہ لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں جن میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی شامل ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید لکھا ہےکہ ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ آئی سی سی کے کمانڈ اور اعلی ذمہ داری کے اصولوں کےمطابق ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئےگرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کیا جانا چاہئے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے کچھ اراکین شامل ہیں جن کے خلاف وارنٹ جاری کیا جانا چاہئے اور گرفتاری بھی عمل میں آنا چاہئے۔
 جنوبی افریقہ ان متعدد ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے غزہ پر اسرائیل کی بمباری کی مذمت کی ہے،اسرائیل سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلالیا ہے۔
آئرلینڈ میں اسرائیلی سفیر کی بے دخلی پر ووٹنگ
 آئرلینڈکی پارلیمنٹ اگلےہفتے اسرائیلی سفیر کی بے دخلی پر ووٹنگ کرنے والی ہے۔بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹس نےگزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ بدھ کو سفیر ڈانا ایرلچ کو ملک بدر کرنے کے لیے ایک تحریک لائےگی۔ انہوں نے کہاکہ ’’اسرائیلی ریاست کی جانب سےشہریوں ، صحافیوں ، اقوام متحدہ کے عملے اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے میں ناکامی کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔‘‘جہاں سوشل ڈیموکریٹس کے پاس آئرش پارلیمنٹ ڈیل ایرین میں ۱۶۰؍میں سےصرف۶؍ سیٹیں ہیں ، وہیں بائیں بازو کی کئی دیگر جماعتوں نے ایرلچ کی سفارتی حیثیت کو منسوخ کرنے کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔پارلیمنٹ کی سب سے بڑی پارٹیسن فین کے ساتھ فیانا فیل نامی پارٹی نےبھی ایرلچ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے، حالانکہ اس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنی تحریک پیش کرے گی جس کے بجائے اسرائیل کو بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔آئرلینڈجہاں بہت سے لوگ فلسطین کاز اور برطانیہ سے آزادی کی جدوجہد کے درمیان مماثلت دیکھتے ہیں ، ایک یورپی ملک کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات غیر معمولی طور پر کشیدہ ہیں۔
 آئرلینڈ کے وزیر اعظم لیو وراڈکر نے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی ہے لیکن تشویش کااظہار کیا ہے کہ غزہ پر اس کی بمباری ’اجتماعی سزا‘ اور ’انتقام سے قریب کی کوئی چیز‘ ہے۔آئرش صدر مائیکل ڈی ہگنس، جن کا کردار بڑی حد تک رسمی ہے،اسرائیل پر خاص طور پر تنقید کرتے رہےہیں ، اور اس پر شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کونظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایرلچ نے ہگنس کے تبصروں پر جوابی حملہ کرتےہوئے سنڈے انڈیپنڈنٹ اخبار کو بتایا کہ ’’اسرائیل میں ایک شدید احساس ہے کہ آئرلینڈ میں اسرائیل کے خلاف غیر شعوری تعصب ہے۔‘‘
آسٹریلیا کا اسپتالوں پر حملے بند کرنے کامطالبہ
 آسٹریلیا کے وزیر خارجہ پینی وونگ نے اسرائیل سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ پر اس کے حملے سےشہریوں کی ہلاکتوں کی ’خوفناک‘تعداد پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اسپتالوں پر حملے بند کرے۔ 
 وونگ نےاتوار کو اے بی سی کے انسائیڈرز پروگرام کو بتایا،’’میں اسپتالوں اور طبی سہولیات کے حوالےسے یہ نکتہ بیان کروں گاکہ بین الاقوامی انسانی قانون اسپتالوں ، مریضوں اور طبی عملے کے تحفظ کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’اور ہم اسرائیل سےمطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسپتالوں پر حملے بندکرے۔ہم اس دلیل کو سمجھتے ہیں کہ حماس سویلین انفراسٹرکچرمیں چھپے ہوئے ہیں لیکن، آپ جانتے ہیں ،مجھے لگتا ہے کہ بین الاقوامی برادری، اسپتالوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے، اسرائیل سےکہے گی کہ یہ سہولیات بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ ایسا کریں۔
 تاہم، وونگ نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا’’ہمیں جنگ بندی کی طرف قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا’’ہم جانتے ہیں کہ حماس کے پاس یرغمال بنائے ہوئے افراد اب بھی موجود ہیں ،اور ہم جانتے ہیں کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہونا چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK