Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگی اثرات سے نمٹنے کا فیصلہ، جنوبی کوریا کا ۲ء۲۶؍ ٹریلین وون کا بجٹ منظور

Updated: April 11, 2026, 7:17 PM IST | Seoul

جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے ۲ء۲۶؍ ٹریلین وون (۷ء۱۷؍ ارب ڈالر) کے ضمنی بجٹ کی منظوری دی ہے۔ یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق اس بجٹ میں کم آمدنی والے شہریوں کے لیے نقد امداد اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔ خیال رہے کہ صدر لی جے مینونگ نے صورتحال کو ’’جنگی سطح‘‘ کا بحران قرار دیا تھا۔ حکومت نے فوری امدادی اقدامات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے گزشتہ دن ۲ء۲۶؍ ٹریلین وون (تقریباً ۷ء۱۷؍ ارب ڈالر) کا ایک بڑا ضمنی بجٹ منظور کیا ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنا ہے۔ یہ منظوری حکومت کی جانب سے بجٹ تجویز پیش کیے جانے کے صرف ۱۰؍ دن بعد دی گئی۔ یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق، بجٹ بل کو پارلیمنٹ کے مکمل اجلاس میں ۲۱۴؍ کے مقابلے میں ۱۱؍ ووٹوں سے منظور کیا گیا جبکہ ۲۴۴؍ ارکان میں سے ۱۹؍ قانون ساز ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔ حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی اور مرکزی اپوزیشن پیپل پاور پارٹی نے اس بجٹ کے حجم کو حکومت کی اصل تجویز کے مطابق برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کو موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں ایران جنگ بندی مذاکرات، امریکی افواج مشرق وسطیٰ روانہ

بجٹ کے تحت کم از کم ۷۰؍ فیصد آمدنی والے شہریوں کے لیے نقد امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت تقریباً ۸ء۳۵؍ ملین افراد کو ان کی آمدنی اور رہائشی علاقے کی بنیاد پر ایک لاکھ سے ۶؍ لاکھ وون کے درمیان مالی مدد دی جائے گی۔ اس کے علاوہ حکومت نے کلیدی صنعتی شعبوں کے لیے ایندھن (نیفتھا) کی مستحکم فراہمی یقینی بنانے کے لیے مزید ۲۰۰؍ ارب وون مختص کیے ہیں۔ نیفتھا پیٹروکیمیکل صنعت کے لیے ایک اہم خام مال سمجھا جاتا ہے، اور اس کی فراہمی میں خلل معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
اس تناظر میں صدارتی ترجمان کانگ یو جنگ نےکہا کہ ’’ہم حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے دو طرفہ تعاون کے ذریعے اس بل کو تیزی سے منظور کیا اور قومی مفاد کو ترجیح دی، خاص طور پر اس بحران کے دوران جو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت منظوری کے فوراً بعد امدادی اقدامات پر عملدرآمد شروع کرے گی، جن میں نیفتھا کی خریداری کے لیے سبسڈی، عوامی ٹرانسپورٹ میں رعایت اور کسانوں و ماہی گیروں کے لیے ایندھن کی امداد شامل ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے صورتحال کو ’’جنگی سطح‘‘ کا بحران قرار دیتے ہوئے قانون سازوں پر زور دیا تھا کہ وہ اضافی بجٹ کی فوری منظوری دیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک غیر متوقع اور کثیر جہتی بحران ہے، جس کے اثرات ہماری معیشت پر براہ راست پڑ رہے ہیں۔‘‘ توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر جنوبی کوریا نے قومی توانائی سکیورٹی الرٹ کی دوسری سطح بھی جاری کی ہے۔ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ توانائی کے تحفظ کے لیے ٹریفک کنٹرول سمیت مختلف اقدامات تیار کریں۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان: اسرائیل کےپھر وحشیانہ حملے، متعدد زخمی

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث جنوبی کوریا کی خام تیل کی درآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ یکم مارچ کے بعد سے اس اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل کی ترسیل میں خلل آیا، جبکہ آخری آئل ٹینکر ۲۰؍ مارچ کو جنوبی کوریا پہنچا تھا۔ حکام کے مطابق یہ بجٹ موجودہ بحران کے فوری اثرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK