Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ایران جنگ، افراط زر میں اضافہ، پیٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

Updated: April 11, 2026, 8:01 PM IST | Washington

بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء میں امریکہ میں افراط زر بڑھ کر ۳ء۳؍ فیصد ہو گئی، جو مئی ۲۰۲۴ء کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ توانائی، خاص طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں زبردست اضافے نے مہنگائی میں اضافہ کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی متاثر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب وہائٹ ہاؤس نے اسے عارضی خلل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکہ میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں مارچ ۲۰۲۶ء کے دوران صارفین کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں ماہانہ بنیاد پر ۹ء۰؍ فیصد اضافہ ہوا، جو جون ۲۰۲۲ء کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر افراط زر کی شرح فروری کے ۴ء۲؍ فیصد سے بڑھ کر مارچ میں ۳ء۳؍ فیصد تک پہنچ گئی، جو مئی ۲۰۲۴ء کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: اسلام آباد مذاکرات شروع، لبنان میں اسرائیلی حملے

اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں توانائی کی قیمتوں میں ۹ء۱۰؍ فیصد کا اضافہ ہوا، جو گزشتہ تقریباً دو دہائیوں میں اس شعبے میں سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے، جس نے مجموعی مہنگائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق امریکی پیٹرول کی قیمتوں میں ایک ماہ کے اندر تقریباً ۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا، جو ریکارڈ میں سب سے بڑا ماہانہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مارچ میں عام پیٹرول کی اوسط قیمت ۹۱ء۲؍ ڈالر فی گیلن سے بڑھ کر ۶۴ء۳؍ ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ بڑی حد تک ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے منسلک ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کا براہ راست اثر امریکی صارفین پر پڑا۔
سالانہ بنیادوں پر توانائی کے اشاریے میں ۵ء۱۲؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پیٹرول کی قیمتیں ایک سال پہلے کے مقابلے میں ۹ء۱۸؍ فیصد زیادہ ہو گئیں۔ ماہرین کے مطابق صرف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مجموعی ماہانہ مہنگائی کے تقریباً تین چوتھائی حصے کے برابر ہے۔ دیگر شعبوں میں بھی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مارچ میں ہوائی سفر کے کرایوں میں ۷ء۲؍ فیصد اضافہ ہوا، ملبوسات کی قیمتیں ایک فیصد بڑھیں، جبکہ تعلیم، گھریلو اشیاء اور نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
رہائشی اخراجات میں ۳ء۰؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خوراک کی مجموعی قیمتیں مستحکم رہیں۔ گھر کے باہر کھانے کی قیمتوں میں ۲ء۰؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گھر کے اندر استعمال ہونے والی خوراک کی قیمتوں میں ۲ء۰؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ بنیادی افراط زر، جس میں خوراک اور توانائی شامل نہیں، مارچ میں ۲ء۰؍ فیصد بڑھی اور سالانہ بنیادوں پر ۶ء۲؍ فیصد تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں ایران جنگ بندی مذاکرات، امریکی افواج مشرق وسطیٰ روانہ

اس صورتحال پر وہائٹ ہاؤس نے مہنگائی میں اضافے کو عارضی قرار دیا۔ ترجمان کے مطابق ’’انتظامیہ توانائی کی آزادانہ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اور امریکی معیشت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جو ٹیکس اصلاحات، ڈی ریگولیشن اور توانائی کے شعبے میں پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔‘‘
اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھ رہا کیونکہ وہ ایک طرف ایران کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور دوسری جانب اندرون ملک بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں مہنگائی شہریوں کو مزید متاثر کرسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK