یہ پابندی آئندہ سال مارچ سے نافذ العمل ہوگی، جس کے ساتھ ہی جنوبی کوریا ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے، جو کم عمر افراد کے درمیان اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کررہے ہیں۔ کہا گیا کہ نوجوانوں میںسوشل میڈیا کی لت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
اس طرح کمرہ جماعت میں طلبہ کے آلات جمع کرلئے جائیں گے۔ تصویر: آئی این این
جنوبی کوریا میں ایک بل منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت ملک بھر کے اسکولوں میں کلاس رومز کے اندر موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے، ملک میں نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کے اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ پابندی آئندہ سال مارچ سے نافذ العمل ہوگی، جس کے ساتھ ہی جنوبی کوریا ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے، جو کم عمر افراد کے درمیان اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کررہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں آسٹریلیا نے نوعمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر اپنی پابندی کو مزید وسعت دی ہے، جولائی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق نیدرلینڈ کے اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی نے طلبہ کی توجہ میں بہتری پیدا کی ہے۔ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ جنوبی کوریا دنیا کے سب سے زیادہ ڈیجیٹل طور پر جُڑے ہوئے ممالک میں شامل ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق ۲۰۲۲ء اور۲۰۲۳ء میں کیے گئے ایک جائزے میں۹۹؍ فیصد جنوبی کوریائی عوام آن لائن ہیں، جبکہ۹۸؍ فیصد اسمارٹ فون رکھتے ہیں، جو زیرِ مطالعہ۲۷؍ ممالک میں سب سے زیادہ شرح ہے۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ : سرنگ اڑانے کے نام پر اسرائیلی فوج نے زيتون محلہ کو زمین دوز کردیا
بدھ کے روز پارلیمنٹ میں اس بل کو دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی۔ اپوزیشن پیپلز پاور پارٹی کے رکنِ اسمبلی اور بل کے معاون چو جنگ ہن نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی سوشل میڈیا کی لت اب خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ہمارے بچوں کی ہر صبح آنکھیں سرخ ہوتی ہیں، وہ رات۲؍ یا ۳؍ بجے تک انسٹاگرام پر لگے رہتے ہیں۔
تعلیم کی وزارت کے گزشتہ سال کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً۳۷؍فیصد مڈل اور ہائی اسکول کے طلبہ نے کہا کہ سوشل میڈیا اُن کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ۲۲؍ فیصد نے اعتراف کیا کہ اگر وہ سوشل میڈیا تک رسائی حاصل نہ کر سکیں تو انہیں بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ جنوبی کوریا کے بہت سے اسکول پہلے ہی اسمارٹ فون کے استعمال پر اپنی حدود مقرر کر چکے ہیں، اور اب یہ بل ان پابندیوں کو باضابطہ بنا رہا ہے۔
ڈیجیٹل ڈیوائسز کا استعمال اب بھی معذور طلبہ یا تعلیمی مقاصد کیلئے کیا جا سکے گا ۔البتہ کچھ نوجوانوں کی فلاحی تنظیموں نے اس پابندی کی مخالفت کی ہے۔‘‘