ہندوستانی انفلوئنسر سچن اوستھی نے الزام لگایا کہ جنوبی کوریا اور چین میں اس کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا، اسے ۳۸؍ گھنٹے تک بٹھا کر رکھا گیا ، اس دوران کھانے پینے اور ضروریات کا ناقص انتظام تھا۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi
ہندوستانی انفلوئنسر سچن اوستھی نے الزام لگایا کہ جنوبی کوریا اور چین میں اس کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا، اسے ۳۸؍ گھنٹے تک بٹھا کر رکھا گیا ، اس دوران کھانے پینے اور ضروریات کا ناقص انتظام تھا۔
ہندوستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر سچن اوستھی نے الزام لگایا ہے کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو جنوبی کوریا اور چین میں تقریباً۳۸؍ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا اور انٹرنیشنل ٹرپ پر انہیں داخلے سے انکار کر دیا گیا۔ اوستھی کا کہنا تھا کہ حراست کے دوران ان کے ساتھ ’’مجرموں‘‘ جیسا سلوک کیا گیا اور انہیں عام قیمت سے دس گنا مہنگا واپسی کا ٹکٹ خریدنے کیلئے ’’بلیک میل‘‘ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ’’ذہنی طور پر تھک چکے تھے‘‘ اور ’’بس بحفاظت باہر نکلنا چاہتے تھے۔‘‘انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں، اوستھی نے جنوبی کوریا کے اپنے تلخ تجربے کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھا، ’’ہم جوش و خروش سے بھرے جنوبی کوریا کے جیجو جزیرے پہنچے۔ چند گھنٹوں میں سب کچھ بدل گیا۔ ہمیں داخلے سےروک دیا گیا اور ایک حراستی مرکز میں لے جایا گیا۔تاہم بنا کسی وضاحت کے بس انتظار کرنے کو کہا گیا۔ اور ہم انتظار کرتے رہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مسلم تاجرکی ایمانداری، لاکھوں کے زیورات اسکے مالک کو لوٹا دئیے
انہوں نے مزید کہا کہ، ’’بغیر کسی وضاحت کے گھنٹے گزرتے رہے، انہوں نے ہمیں اپنے حراستی مرکز میں رکھا (جو جیل جیسا تھا جس میں سورج کی روشنی نہیں تھی اور باہر تک رسائی نہیں تھی) اور ہمیں جیل کا کھانا بھی دیا۔ جبکہ کسی نے نہیں بتایا کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ انہوں نے ہمیں بہت مہنگا واپسی کا ٹکٹ بک کروانے پر بلیک میل کیا۔‘‘تاہم اوستھی نے بتایا کہ بعد میں انہیں چین کے راستے منتقل کیا گیا، جہاں ان کے پاس فون اور کھانے تک رسائی نہیں تھی اور پانی محدود تھا۔ انہوں نےٹھہرنے کے حالات کو بدترین قرار دیا اور کہا کہ واش روم کے استعمال پر بھی پولیس افسر نظر رکھے ہوئے تھا، جو باڈی کیم لگائے ہوئے تھا اور ان کے ساتھ واش روم جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال: ایس آئی آر میں عدالتی افسران کی تقرری کا حکم
ہندوستانی انفلوئنسر نے کہا کہ وہ یہ واقعہ ہمدردی یا ڈرامے کے لیے شیئر نہیں کر رہے اور مزید کہا، "امیگریشن کا فیصلہ ان کا اختیار ہے۔ لیکن انہیں ہمارے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔‘‘انہوں نے مسافروں کو خبردار کیا کہ ’’دنیا کا سفر آن لائن بہت شاندار لگتا ہے۔ لیکن بعض اوقات، چند گھنٹوں میں حالات بدل جاتے ہیں اور آپ کو جذباتی طور پر ان طریقوں سے آزماتے ہیں جن کی آپ نے کبھی توقع نہیں کی تھی۔‘‘