اُترپردیش کے للت پور میں آج تک’ایس پی‘ کا کھاتہ نہیں کھل سکا لیکن ریلیوں میں بھیڑ سےامیدیں جاگی ہیں

Updated: January 11, 2022, 8:22 AM IST | lalitpur

کانگریس،بی ایس پی اوربی جے پی باری باری ضلع کی دونوں اسمبلی سیٹوں مہرونی اور للت پور پر جیت درج کرنے میں کامیاب رہی ہیں لیکن سماجوادی پارٹی کے نمائندے یہاں کبھی نہیں جیت سکے

Samajwadi Party rallies are quite crowded these days
ان دنوں سماجوادی پارٹی کی ریلیوں میں کافی بھیڑ ہوتی ہے

 کانگریس،بی ایس پی اوربی جے پی  باری باری اتر پردیش کے للت پور ضلع کی دونوں اسمبلی سیٹوں مہرونی اور للت پور پر جیت درج کرنے میں کامیاب رہی ہیں لیکن ایس پی(سماجوادی پارٹی) کا آج تک کھاتہ نہیں کھل سکا ہے۔ اس بار وجے رتھ یاترا میں بندیل کھنڈ میں جمع ہونے بھیڑ کو دیکھ کر اکھلیش یادو کی  للت پور میں کھاتہ کھولنے کی امیدیں جاگ گئی ہیں۔
 بندیل کھنڈ کے جھانسی ڈویژن  کے ضلع للت پور میں ابتدائی انتخابی سیاست بندیلا خاندان کے گرد گھومتی تھی۔ اس علاقے میں کانگریس نے سجان سنگھ بندیلا کی قیادت میں انتخابی جیت کا جھنڈا لہرایا۔ للت پور میں کئی دہائیوں تک کانگریس کے غلبہ کے بعد بی ایس پی اور بی جے پی نے۱۹۸۰ءکی دہائی میں اس خطے میں اپنا قدم جمایا۔۱۹۸۰ء میں للت پور قانون ساز اسمبلی سے کانگریس کے اوم پرکاش رچھاریہ اور مہرونی سیٹ سے سجان سنگھ بندیلا ایم ایل اے بنے۔ اس کے بعد۱۹۸۴ء میں للت پور سیٹ سے کانگریس کے راجیش کھیرا نے کامیابی حاصل کی۔ وہیں بی جے پی کے دیوندر کمار سنگھ نے مہرونی سے جیت درج کرکے کانگریس کے انتخابی رتھ کو روک دیا۔ اس کے بعد۱۹۸۹ء میں بی جے پی نے للت پور کی دونوں سیٹوں پر قبضہ کر لیا۔ اس  الیکشن میں مہرونی اسمبلی حلقہ سے دیوندر کمار سنگھ اور للت پور سے ڈاکٹر اروند جین ایم ایل اے بنے۔
 اگرچہ ڈاکٹر اروند جین نے۱۹۹۱ء کے ضمنی انتخاب میں للت پور سے کامیابی حاصل کی، لیکن مہرونی سیٹ پر کانگریس کے پورن سنگھ بندیلا نے کامیابی حاصل کی۔ اس کے صرف دو سال بعد ایک بار پھر بی جے پی نے دونوں سیٹوں پر جیت درج کی اور ۱۹۹۳ء کے ضمنی انتخاب میں للت پور سے ڈاکٹر اروند جین اور مہرونی سے دیوندر کمار سنگھ کو ایم ایل اے بنایا گیا۔اس کے بعد۱۹۹۶ء میں بی جے پی کے ڈاکٹر اروند جین نے للت پور میں مسلسل چوتھی جیت درج کی جبکہ مہرونی سے کانگریس کے پورن سنگھ بندیلا نے کامیابی حاصل کی۔ یہ تصویر۲۰۰۲ء میں مہرونی سے بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتنے والے پورن سنگھ بندیلا نے بدل دی تھی، جبکہ للت پور سے کانگریس کے وریندر سنگھ بندیلا نے جیت حاصل کی اور ضلع میں پارٹی کے بجائے اپنے خاندان کا غلبہ قائم کیا۔بی ایس پی نے ۲۰۰۷ء میں پہلی بار اس ضلع میں جیت کا مزہ چکھاتھا۔ للت پور سیٹ پر بی ایس پی سے ناتھو رام کشواہا اور مہرونی سے بی جے پی کے پنڈت رام کمار تواری ایم ایل اے بنے تاہم، کشواہا کا ایک سال بعد انتقال ہو گیا،اس کے بعد ۲۰۱۰ء کے ضمنی انتخاب میں ان کی بیوی سمن کشواہا بی ایس پی کی ایم ایل اے بن گئیں۔۲۰۱۲ءمیں بی ایس پی نے اقتدار مخالف لہر کے باوجود بی جے پی اور کانگریس کو ضلع کی دونوں سیٹوں سے باہر کا راستہ دکھایا۔ للت پور سے بی ایس پی کے رمیش پرساد کشواہا اور مہرونی سے پھیرن لال اہیروار جیت گئے لیکن۲۰۱۷ءکے اسمبلی انتخابات میں، مودی لہر میں للت پور سے بی جے پی کے رام رتن کشواہا اور مہرونی سے بی جے پی کے منوہر لال پنتھ نے کامیابی حاصل کی۔
  گزشتہ ۵؍ برسوں میں للت پور کی دونوں سیٹوں پر بی جے پی کیمپ میں اختلافات اور کارکنوں کو نظر انداز کرنے کی شکایت نے پارٹی کے ماتھے پر تشویش کی لکیریں بڑھا دی ہیں۔ قیادت اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں خاص کر ایس پی کو للت پور ضلع میں اپنا کھاتہ کھولنے کی امید ہے۔اس الیکشن میں ایس پی، کانگریس اور بی ایس پی کی کوشش ہے کہ للت پور ضلع میں کھاد کی قلت کے مسئلہ کو اہم  موضوع  بنایا جائے۔ حال ہی میں اس ضلع میں کھاد کی لائن میں لگے کسان کی موت کا پہلا معاملہ سامنے آیا تھا۔ کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی سب سے پہلے متاثرین کے اہل خانہ سے اس وقت ملیں جب للت پور ضلع میں کھاد کی قلت کی وجہ سے کم از کم ۴؍ کسانوں کی موت کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا۔اس کے بعد ایس پی سپریمو اکھلیش  نے بھی وجے رتھ یاترا لے کر ایک دن کیلئے اس ضلع میں ڈیرہ ڈالا تھا۔ اس کے ساتھ ہی، بی ایس پی نے برہمن کانفرنس کرکے ضلع میں سیاسی میدان میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
 یہاں کھاد کی قلت ایک بڑا انتخابی مسئلہ ہے۔ دیہی علاقوں میں بی جے پی کے خلاف عوامی غصے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، کانگریس اور بی ایس پی اپنا کھویا ہوا میدان واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ اکھلیش خود کو بی جے پی کا متبادل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایس پی  کے داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK