Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار اسمبلی کا خصوصی اجلاس آج، وزیر اعلیٰ تحریک اعتماد پیش کریں گے

Updated: April 24, 2026, 9:51 AM IST | Javed Akhtar | Mumbai

اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ ایوان سے خطاب کریں گےجس میں وہ حکومت کی مستقبل کی پالیسیوں کا خاکہ پیش کریں گے۔

Security personnel are seen ready ahead of the assembly session. (PTI)
اسمبلی اجلاس سے قبل سیکوریٹی اہلکار مستعد نظر آرہے ہیں۔ (پی ٹی آئی)

بہار اسمبلی کا ایک روزہ خصوصی اجلاس جمعہ ،۲۴؍اپریل کو منعقد ہوگا جس میں ریاست کے ۲۴؍ ویں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری تحریک اعتمادپیش کریں گے۔ انہوں نے۱۵؍ اپریل کووزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیاتھا۔ وہ ریاست میں بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں۔ اسمبلی کا اجلاس صبح ۱۱؍ بجے شروع ہوگا۔ اجلاس کا آغاز اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار کے خطاب سے ہوگا۔ اس کے فوراً بعدوزیراعلیٰ سمراٹ چودھری یک سطری تحریک اعتماد پیش کریں گے۔ ’یہ ایوان موجودہ ریاستی وزراء کونسل پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔‘ تحریک پر ایوان میں بحث کی جائے گی۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو سب سے پہلے تحریک اعتماد پر اپنی رائے پیش کریں گے۔ اس کے بعد تمام جماعتوں کے لیڈر یکے بعد دیگرے اس تحریک پر اپنی اپنی پارٹی کے موقف پیش کریں گے۔ریاست کی۲۴۳؍ رکنی اسمبلی میں فی الحال ایک سیٹ خالی ہے۔ ووٹوں کی تقسیم۲۴۲؍ اراکین کی تعداد کی بنیاد پر کی جائے گی۔ این ڈی اے کی۵؍ اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی کی کل تعداد۲۰۱؍ ہے۔ اپوزیشن کے پاس صرف۴۱؍ اراکین ہیں۔ اس لئے ووٹ کا امکان کم ہے۔ ممکن ہےکہ حکومت صوتی ووٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک مخصوص طبقے کو بدنام کرنے کیلئے کارپوریٹ جہاد کا شوشہ چھوڑا گیا ہے

اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ ایوان سے خطاب کریں گے، جس میں وہ حکومت کی مستقبل کی پالیسیوں کا خاکہ پیش کریں گے۔ عام طور پر پارٹیاں ووٹنگ کے دوران اراکین کی لازمی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے وہپ جاری کرتی ہیں لیکن سب سے بڑی پارٹی بی جے پی نے بھی اس ووٹ کے لئے وہپ جاری نہیں کیا ہے۔ بہار کے۴۰؍ سے زیادہ بی جے پی ایم ایل اے مغربی بنگال انتخابات میں مصروف ہیں جنہیں جمعہ کو ایوان میں حاضر رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بی جےپی نے جے ڈی یو کی حمایت سے بننے والی اپنی حکومت کا جشن تہوار کی صورت میں نہیں منانے کا فیصلہ کیاہے۔بی جے پی یہ دکھانے کی کوشش کررہی ہے کہ حکومت کی قیادت میں صرف تبدیلی آئی ہےجبکہ سابقہ نتیش کمار حکومت کی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رہے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK