مقامی شہریوں میں شدید غم و غصہ، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 10:59 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
مقامی شہریوں میں شدید غم و غصہ، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
شہر میں ایمرجنسی طبی خدمات کی سست رفتاری ایک بار پھر سوالوں کے گھیرے میں آگئی ہے۔۱۰۸ ایمبولینس تاخیر سے پہنچنے کے باعث ایک ۷۰ ؍سالہ معمر خاتون کی موت واقع ہوگئی حالانکہ جائے وقوع سے محض چند منٹ کے فاصلے پر سرکاری اسپتال موجود تھا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ طبی عملہ اور ایمبولنس ۱۲؍ منٹ میں پہنچ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: چال کے ایک کمرہ سے ایم بی بی ایس تک، ڈاکٹر عدنان انصاری کاسفرجدوجہدبھرارہا
موصولہ اطلاعات کے مطابق امبیولی کی رہائشی میوا لال گپتا بدھ کے روز کسی ذاتی کام کے سلسلے میں کلیان آئی تھیں۔ کام مکمل کرنے کے بعد وہ واپس امبیولی جانے کے لیے کلیان اسٹیشن کی جانب جا رہی تھیں کہ اسی دوران اسٹیشن کے قریب واقع دیپک ہوٹل کے پاس اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں سینے میں شدید درد محسوس ہونے لگا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے فوراً ۱۰۸ ؍ایمبولینس سروس پر کال کیا۔
ذرائع کے مطابق دیپک ہوٹل سے صرف تین منٹ کے فاصلے پر واقع میونسپل کارپوریشن کے رکمنی بائی اسپتال میں ایمبولینس موجود تھی تاہم کال کرنے کے باوجود ایمبولینس کو موقع پر پہنچنے میں تقریباً ۴۰ منٹ لگ گئے۔اس دوران میوالال گپتا کی حالت مسلسل بگڑتی رہی اور آخرکار انہوں نے دم توڑ دیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایمبولینس وقت پر پہنچ جاتی تو شاید ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔واقعہ کے بعد دیپک ہوٹل اور رکمنی بائی اسپتال کے اطراف جمع شہریوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مودی حکومت کو بے نقاب کرنے کیلئے کانگریس ملک بھر میں احتجاج کرے گی ‘‘
مظاہرین کا الزام ہے کہ ایمبولینس ڈرائیور اور متعلقہ طبی عملے کی لاپروائی کے باعث ایک بے قصور شخص کی جان گئی ہے ادھر اس واقعہ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی ہے جس کے بعد عوامی ناراضگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اس معاملے میں ۱۰۸ ایمبولینس کے ڈاکٹر محمد توفیق اور ڈرائیور پرکاش چورگے نے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق رات ۱۰ بجکر ۲۹ منٹ پر کال موصول ہونے کے بعد وہ محض ۱۲ منٹ میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے۔متعلقہ شخص کی جانچ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کی موت ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ جائے وقوع پر بڑی بھیڑ جمع ہو گئی تھی اور مشتعل شہریوں کی جانب سے حملے کا خدشہ پیدا ہونے کی وجہ سے انہیں وہاں سے نکلنا پڑا۔ اس معاملے میں ایمبولینس ڈرائیور نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دوسرے مریض کو اسپتال چھوڑ کر واپس آرہا تھا لیکن اسٹیشن کے اطراف شدید ٹریفک جام کے باعث وقت پر نہیں پہنچ سکا۔