Updated: April 24, 2026, 10:59 AM IST
| New Delhi
ہندوستان کے ۵۳؍ ممتاز ماہرِ طبیعیات نے ایران اور فلسطین میں یونیورسٹیوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے تحفظ اور علمی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستان کے۵۳؍ ممتاز ماہرِ طبیعیات نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران اور فلسطین میں یونیورسٹیز پر ہونے والے مبینہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ قرار دیا ہے۔ دستخط کنندگان، جو سائنسی برادری کی نمایاں شخصیات ہیں ، نے تعلیمی ڈھانچے کی تباہی اور تنازعات والے علاقوں میں علمی آزادی کو درپیش خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
یونیورسٹیوں پر حملوں کی شدید مذمت
حال ہی میں جاری کئے گئے اس بیان میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ماہرینِ طبیعیات نے کہا کہ یونیورسٹی علم اور فکری جستجو کے مراکز ہوتی ہیں ، اور ان کی تباہی انسانی ترقی اور تہذیب پر براہِ راست حملہ ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف تعلیم کو متاثر کرتے ہیں بلکہ سائنسی تحقیق اور ثقافتی ورثے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران اور فلسطینی علاقوں میں تعلیمی اداروں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اگرچہ ہر واقعے کی نوعیت مختلف ہے، لیکن مجموعی طور پر تشویش اس بات پر ہے کہ علم و تحقیق کے مراکز کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ٹرمپ کا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان
علمی آزادی اور سائنسی ترقی پر خدشات
دستیاب معلومات کے مطابق ماہرینِ طبیعیات خاص طور پر ان حملوں کے طویل مدتی اثرات کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ تحقیقاتی مراکز، لیبارٹریوں اور جامعات کی تباہی سائنسی ترقی کو دہائیوں پیچھے دھکیل سکتی ہے اور آنے والی نسلوں کی تعلیم اور جدت میں حصہ لینے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ بیان میں ماضی کے ایسے واقعات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جہاں تعلیمی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت یونیورسٹیز کے تحفظ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ دستخط کنندگان نے عالمی اداروں اور حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تعلیمی اداروں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کریں اور ذمہ داران کا احتساب یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: گڑھ پور میر تحصیل میں ایک اور مزار مسمار
رپورٹس کے مطابق ایران میں بعض یونیورسٹی، جیسے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور شہید بہشتی یونیورسٹی، کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں مصنوعی ذہانت کے مراکز اور اہم ڈیٹا بیسز کو نقصان پہنچا۔ ماہرین نے کہا کہ ایسے مراکز ٹیکنالوجی کی ترقی اور سائنسی پیش رفت کیلئے نہایت اہم ہوتے ہیں ، اور ان کی تباہی قومی ترقی کیلئے بڑا دھچکا ہے۔ اسی طرح فلسطین میں بھی یونیورسٹیوں کو شدید نقصان پہنچنے پر تشویش ظاہر کی گئی، جہاں علمی برادری کو خدشہ ہے کہ یہ حملے خطے میں فکری اور ثقافتی ترقی کو دبانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: متضاد تفتیش اور کمزور شواہد کی بنا پر مالیگاؤں دھماکوں کے ملزمین بری ہوئے
بین الاقوامی مداخلت اور تحفظ کا مطالبہ
ہندوستانی ماہرینِ طبیعیات کا یہ بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تنازعات کے دوران تعلیمی ادارے کس قدر غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے عالمی سائنسی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں ، بشمول یونیسکو، سے اپیل کی کہ وہ ان کارروائیوں کی کھل کر مذمت کریں اور جامعات، محققین اور طلبہ کے تحفظ کے لیے مضبوط نظام قائم کریں۔ ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایران جیسے ممالک پر عائد پابندیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں ، جس سے عالمی تحقیق اور علم تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ جسمانی حملوں کے ساتھ یہ عوامل سائنسی ترقی پر دوہرا دباؤ ڈالتے ہیں۔ دستخط کنندگان نے ایران اور فلسطین میں اپنے ہم منصبوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے علم کی عالمی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹیز فوجی اہداف نہیں ہوتیں اور ان پر حملے انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں ، لہٰذا تمام فریقین کو بین الاقوامی معاہدوں کے تحت شہری ڈھانچے، بالخصوص تعلیمی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہئے۔