Updated: September 24, 2026, 2:01 PM IST
| London
”سوان سونگ: ڈائنا، مائی سسٹر“ (Swan Song: Diana, My Sister) کے ایک اقتباس میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ ’ڈیلی مرر‘ کے سابق ایڈیٹر ایک جم میں لیوٹارڈ پہنے ہوئے شہزادی ڈائنا کی خفیہ کیمرے سے لی گئی تصاویر کی اشاعت کے ذمہ دار تھے جو ۱۹۹۳ء میں برطانوی روزنامے ’سنڈے مرر‘ میں شائع ہوئی تھیں۔ مورگن نے نشان دہی کی کہ وہ اس وقت ’دی سن‘ میں کام کر رہے تھے اور ۱۹۹۵ء تک ڈیلی مرر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ جب اسپینسر نے ان سے شہزادی ڈائنا کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کیلئے کہا تو انہیں ”کھڑوس“ (surly) قرار دیا گیا۔ اس نشان دہی کے بعد، اسپینسر نے مورگن سے معافی مانگی تھی۔
اپنی بہن ڈائنا، پرنسس آف ویلز کے بارے میں ارل اسپینسر کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب میں حقائق پر مبنی ایک غلطی پر براڈکاسٹر پیئرز مورگن کی جانب سے قانونی کارروائی کی دھمکی کے بعد ترمیم کی جائے گی اور اسے دوبارہ شائع کیا جائے گا۔ ۲۲ ستمبر کو ریلیز ہونے والی سوانح عمری ”سوان سونگ: ڈائنا، مائی سسٹر“ (Swan Song: Diana, My Sister) کے ایک اقتباس میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ ڈیلی مرر کے سابق ایڈیٹر ایک جم میں لیوٹارڈ پہنے ہوئے شہزادی ڈائنا کی خفیہ کیمرے سے لی گئی تصاویر کی اشاعت کے ذمہ دار تھے جو ۱۹۹۳ء میں برطانوی روزنامے ’سنڈے مرر‘ میں شائع ہوئی تھیں۔ مورگن نے نشان دہی کی کہ وہ اس وقت ’دی سن‘ میں کام کر رہے تھے اور ۱۹۹۵ء تک ڈیلی مرر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ جب اسپینسر نے ان سے شہزادی ڈائنا کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کیلئے کہا تو انہیں ”کھڑوس“ (surly) قرار دیا گیا۔ اس نشان دہی کے بعد، اسپینسر نے مورگن سے معافی مانگی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: شہزادی ڈائنا کے بھائی ارل اسپینسر کی کتاب میں کنگ چارلس سے متعلق سنسنی خیز دعوے
مورگن نے ابتدا میں اسپینسر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سوانح کی باقی کاپیاں تلف کر دیں۔ انہوں نے وکلاء کو ہدایت دی کہ وہ کتاب کی فروخت روکنے کا مطالبہ کریں۔ اسپینسر نے بعد میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ بطور مورخ ”درستگی ان کیلئے اہم تھی۔“ انہوں نے واضح کیا کہ مورگن کے کردار کے بارے میں ان کا قیاس غلط تھا۔ تاہم، وہ اپنے اس مؤقف پر قائم رہے کہ جنازے سے متعلق فون کال کے دوران مورگن کے ”کھڑوس اور ناراض“ ہونے کا ان کا بیان درست تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سوان سونگ: ڈائنا، مائی سسٹر؛ عالمی سطح پر ریلیز، پری آرڈر میں امیزون پر نمبر وَن
’دی ٹائمز‘ نے بعد میں رپورٹ کیا کہ کتاب کے آئندہ ایڈیشنز کی تصحیح کی جائے گی۔ معافی کے باوجود، مورگن نے کہا کہ وہ اب بھی قانونی کارروائی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی ریڈیو ۴ کے پی ایم پروگرام میں بتایا کہ انہوں نے وکلاء کو اسپینسر اور پبلشر پینگوئن دونوں کو خطوط بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپینسر کی جانب سے فوری معافی ”سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔“ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس جھوٹے دعوے کو ہٹایا جائے اور کنگز ٹرسٹ کو ہرجانہ ادا کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: شہزادی ڈائنا کی آخری رسومات سے متعلق دعویٰ تنازع کا مرکز بن گیا
واضح رہے کہ اسپینسر کی سوانح عمری نے وسیع تر تنازع کو جنم دیا ہے۔ کتاب میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاہ چارلس نے ۱۹۹۷ء میں پیرس میں ڈائنا کی موت کے فوراً بعد اسپینسر سے کہا تھا کہ ”ہم انہیں جلد ہی بھول جائیں گے۔“ بکنگھم پیلس نے بیان جاری کیا تھا ہے کہ وہ کتابوں پر تبصرہ نہیں کرتا، لیکن غم ”عقل پر پردہ ڈال سکتا ہے، فیصلے کو متاثر کر سکتا ہے اور یادداشت کو دھندلا سکتا ہے۔“