• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہزادی ڈائنا کے بھائی ارل اسپینسر کی کتاب میں کنگ چارلس سے متعلق سنسنی خیز دعوے

Updated: September 21, 2026, 10:03 PM IST | London

’سوان سانگ: ڈائنا، مائی سسٹر‘ ۲۲؍ ستمبر کو شائع ہوگی؛ ارل اسپینسر کا دعویٰ، ڈائنا کی موت کے بعد کنگ چارلس نے کہا تھا ’’ہم اسے جلد ہی بھول جائیں گے‘‘، بکنگھم پیلس نے یادداشت پر سوال اٹھائے۔

Earl Spencer, Princess Diana, and King Charles. Photo: X
ایرل اسپنسر، شہزادی ڈائنا اور کنگ چارلس۔ تصویر: ایکس

شہزادی ڈائنا کے چھوٹے بھائی ارل اسپینسر کی نئی کتاب ’سوان سانگ: ڈائنا، مائی سسٹر‘ کی اشاعت سے قبل برطانوی شاہی خاندان سے متعلق کئی اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔ کتاب میں ارل اسپینسر نے اپنی بہن کی زندگی، کنگ چارلس کے ساتھ ان کی شادی اور ۱۹۹۷ء میں ان کی موت کے بعد پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اپنی یادداشتیں بیان کی ہیں۔ کتاب ۲۲؍ ستمبر کو شائع ہونے والی ہے، تاہم اس کے اقتباسات پہلے ہی برطانوی میڈیا میں شائع ہوچکے ہیں۔ ارل اسپینسر کا سب سے اہم دعویٰ اس فون کال سے متعلق ہے جو شہزادی ڈائنا کی موت کے چند دن بعد ان کے مطابق اس وقت کے شہزادہ چارلس نے انہیں کی تھی۔ اسپینسر کے بقول، گفتگو کے دوران چارلس نے ڈائنا کے بارے میں کہا، ’’ہم اسے جلد ہی بھول جائیں گے۔‘‘ اسپینسر نے بی بی سی کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں بھی اس دعوے پر قائم رہتے ہوئے کہا، ’’یہی بالکل وہ الفاظ تھے جو انہوں نے کہے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: اسکولوں میں برقع پر پابندی کی تجویز، غیر ملکی طلبہ کی تعداد بھی محدود ہوگی

اسپینسر کے مطابق اس جملے سے وہ اس قدر حیران ہوئے کہ انہوں نے چارلس سے کہا، ’’مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ نے ابھی یہ کہا ہے‘‘ اور پھر فون بند کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس گفتگو کے بارے میں اس وقت اپنے خاندان اور دوستوں کو بھی بتایا تھا، کیونکہ انہیں یہ بات غیر معمولی لگی تھی۔ بعد میں کتاب لکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اسپینسر نے کہا کہ وہ تاریخ کے عینی شاہد کی حیثیت سے بعض باتیں محفوظ کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ بکنگھم پیلس نے اسپینسر کے دعوے کے جواب میں ایک غیر معمولی بیان جاری کیا۔ محل کی جانب سے کہا گیا کہ ’’برادرانہ غم عقل، فیصلے اور یادداشت کو اس طرح متاثر کرسکتا ہے جسے برسوں بعد دوسرے لوگ محسوس نہیں کرسکتے۔‘‘ محل نے براہ راست اس مبینہ جملے کی تردید نہیں کی، تاہم اسپینسر نے بی بی سی سے گفتگو میں اس ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی یادداشت پر قائم ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کے ایف سی کی پارکنگ میں بچے کی پیدائش، والدین نے نام ’کرنل کوڈی‘ رکھ دیا

کتاب میں اسپینسر نے ڈائنا اور چارلس کی شادی سے پہلے کے واقعات کے بارے میں بھی دعوے کیے ہیں۔ ان کے مطابق شادی سے تقریباً ایک ماہ قبل ڈائنا نے اپنے والد سے کہا تھا کہ وہ ایسے شخص سے شادی نہیں کرسکتیں جو ان سے محبت نہیں کرتا۔ اسپینسر نے یہ بھی لکھا کہ شادی سے ایک دن پہلے چارلس نے ڈائنا سے کہا تھا کہ وہ ان سے شادی کرنے پر بہت خوش ہیں، لیکن محبت میں گرفتار نہیں ہیں۔ اسپینسر نے ڈائنا کی ازدواجی زندگی اور ذاتی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ اپنی زندگی کے ایک انتہائی مشکل دور میں وہ شدید جذباتی دباؤ کا شکار تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈائنا کے لیے ان کے دونوں بیٹے ولیم اور ہیری بہت اہم تھے اور یہی رشتہ انہیں مشکل حالات میں سنبھالے رکھنے میں مدد دیتا تھا۔

ڈائنا کی ۳۱؍ اگست ۱۹۹۷ء کو پیرس میں ایک کار حادثے میں موت کے بعد کے واقعات بھی کتاب کا اہم حصہ ہیں۔ اسپینسر کا دعویٰ ہے کہ ان کی بہن کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد چارلس نے انہیں فون کیا اور ان کے لہجے میں انہیں ایسی کیفیت محسوس ہوئی جو اسپینسر کے الفاظ میں ’’قرعہ اندازی جیتنے والے شخص‘‘ جیسی تھی۔ یہ بھی ان دعوؤں میں شامل ہے جنہوں نے بکنگھم پیلس کی جانب سے سخت ردعمل کو جنم دیا۔ اسپینسر نے حالیہ بی بی سی انٹرویو میں شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے حوالے سے بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں کے ساتھ میڈیا کا برتاؤ انہیں ڈائنا کے ساتھ ہونے والے سلوک کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیری اور میگھن کے بارے میں بعض اخباری مضامین ’’بہت، بہت ناخوشگوار‘‘ ہوسکتے ہیں اور لوگوں کو ڈائنا کے تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: جرمنی: الف ایرالپ کی قیادت میں برلن میں بائیں بازو کی جماعت کی شاندار کامیابی

ہیری کی سیکوریٹی کے بارے میں اسپینسر نے کہا کہ بطور ماموں، اور اپنی بہن کو انتہائی افسوس ناک حالات میں کھونے کے تجربے کے بعد، وہ ہیری اور میگھن کے لیے سرکاری سیکوریٹی کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے خاص طور پر ہیری کے سابق فوجی ہونے اور برطانوی تخت کی جانشینی کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہونے کا حوالہ دیا۔ اسپینسر نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے درمیان اختلاف میں کسی ایک جانب نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں بھتیجوں سے یکساں محبت کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں دونوں کے تعلقات بہتر ہوں گے، تاہم وہ ان کے ذاتی معاملات میں زیادہ مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ ’سوان سانگ: ڈائنا، مائی سسٹر‘ کی اشاعت کے ساتھ ارل اسپینسر کی یہ یادداشتیں پہلی مرتبہ مکمل کتابی شکل میں سامنے آئیں گی۔ کتاب کے دعووں اور بکنگھم پیلس کے ردعمل کے درمیان اختلاف پہلے ہی برطانوی شاہی خاندان سے متعلق نئی بحث کا سبب بن چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK