پرنسس ڈائنا کے بھائی ارل اسپینسر کی یادداشتیں ۲۲؍ ستمبر کو عالمی سطح پر منظر عام پر آگئیں؛ پری آرڈر کے دوران کتاب Amazon کی ایک بیسٹ سیلر فہرست میں سرفہرست رہی، جبکہ رپورٹ کے مطابق بڑی کامیابی کی صورت میں مصنف ۱۰؍ ملین پاؤنڈ تک کما سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 8:03 PM IST | London
پرنسس ڈائنا کے بھائی ارل اسپینسر کی یادداشتیں ۲۲؍ ستمبر کو عالمی سطح پر منظر عام پر آگئیں؛ پری آرڈر کے دوران کتاب Amazon کی ایک بیسٹ سیلر فہرست میں سرفہرست رہی، جبکہ رپورٹ کے مطابق بڑی کامیابی کی صورت میں مصنف ۱۰؍ ملین پاؤنڈ تک کما سکتے ہیں۔
پرنسس ڈائنا کے بھائی اور ۹؍ ویں ارل اسپینسر، چارلس اسپینسر کی کتاب ’’سوان سونگ: ڈائنا، مائی سسٹر‘‘ آج ۲۲؍ ستمبر کو عالمی سطح پر جاری کردی گئی۔ ڈائنا کی زندگی، شاہی خاندان سے ان کے تعلقات اور ۱۹۹۷ء میں ان کی موت کے بعد کے واقعات پر مبنی یہ یادداشتیں ریلیز سے قبل ہی خاصی توجہ حاصل کرچکی تھیں اور پری آرڈر کے دوران Amazon کی ایک بیسٹ سیلر فہرست میں نمبر ون پر پہنچ گئی تھیں۔ یہ چارلس اسپینسر کی اپنی بہن ڈائنا پر پہلی مکمل کتاب ہے۔ ناشر Penguin کے مطابق اس میں اسپینسر نے بچپن کی یادوں، دونوں بہن بھائیوں کے قریبی تعلق، ڈائنا کی شہزادہ چارلس سے شادی، عالمی شہرت حاصل کرنے کے بعد ان کی زندگی اور ۱۹۹۷ء میں ان کی موت کے المناک واقعات کو اپنے نقطۂ نظر سے بیان کیا ہے۔ کتاب ۳۸۴؍ صفحات پر مشتمل ہے اور ہارڈ بیک، ای بک اور آڈیو سمیت مختلف شکلوں میں جاری کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل جی سی سی وزارتی کونسل کی رابطہ میٹنگ
کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ۲۲؍ ستمبر کی عالمی ریلیز سے کئی دن پہلے ہی یہ امیزون کی ایک بیسٹ سیلر فہرست میں پہلے نمبر پر پہنچ گئی تھی۔ اس کامیابی نے کتاب سے متعلق تجارتی توقعات بھی بڑھا دی ہیں۔ برطانوی میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق دی سن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپینسر کو کتاب کے لیے ابتدائی رقم ۷۵۰۰۰۰؍ پاؤنڈ سے ایک ملین پاؤنڈ کے درمیان مل سکتی ہے، جبکہ کتاب بڑی تجارتی کامیابی حاصل کرتی ہے تو ان کی مجموعی کمائی ۱۰؍ ملین پاؤنڈ (ایک ارب ۳۰؍ کروڑ روپے) تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ رقم حتمی کمائی نہیں بلکہ ایک اخباری اندازہ ہے۔ ۲۲؍ ستمبر کو کتاب کی باضابطہ اشاعت ایسے وقت ہوئی ہے جب اس کے بعض دعوؤں نے برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ پرانے تنازعات کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ کتاب کے پہلے سے جاری کیے گئے اقتباسات میں اسپینسر نے دعویٰ کیا کہ ڈائنا کی موت کے بعد اس وقت کے شہزادہ چارلس نے ان سے کہا تھا، ’’ہم جلد ہی اسے بھول جائیں گے۔‘‘ اسپینسر کے مطابق ڈائنا کی آخری رسومات کے انتظامات پر بھی دونوں کے درمیان شدید اختلاف ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس میں داخلہ پر پابندی کیخلاف ۳؍ میڈیا ادارے ٹرمپ پرمقدمہ کرینگےا
اسپینسر نے یہ بھی لکھا کہ ڈائنا کی موت کے بعد چارلس کا ردعمل ان کے لیے حیران کن تھا اور انہوں نے ان کے رویے کو انتہائی غیر معمولی قرار دیا۔ یہ تمام تفصیلات اسپینسر کی اپنی یادداشت اور ان کے بیان کردہ واقعات پر مبنی ہیں، جنہیں شاہی محل نے مسترد کرنے کے بجائے ان کی یادداشت کی صحت پر سوال اٹھاتے ہوئے جواب دیا ہے۔ بکنگھم پیلس نے کہا کہ ’’بھائی کے غم کا درد عقل و فہم کو متاثر کرسکتا ہے، فیصلوں پر اثر ڈال سکتا ہے اور یادداشت کو اس انداز میں رنگ سکتا ہے جسے برسوں بعد دوسرے لوگ محسوس نہ کرسکیں۔‘‘ اسپینسر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کتاب اس لیے لکھی کیونکہ وہ ڈائنا کے بھائی ہونے کے ناتے اپنی یادداشت اور تجربات کو محفوظ کرنا چاہتے تھے۔ Penguin کے مطابق ان کا مقصد ڈائنا کی زندگی کو ان کے بھائی کے نقطۂ نظر سے بیان کرنا ہے۔ اسپینسر نے کہا کہ وہ اپنی بہن کے بارے میں دوسروں کی آرا پڑھنے کے بجائے اپنے خیالات اور یادیں خود بیان کرنا چاہتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: روس میں انتخابات، حکمراں پارٹی یونائیٹڈ رَشیا کوواضح برتری
کتاب کی تشہیر کے دوران اس کی اشاعت سے پہلے ایک غیر معمولی واقعہ بھی پیش آیا۔ ڈائنا کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کی ۴؍کاپیاں نیدرلینڈز میں ایک ٹرک سے چوری ہوگئی تھیں۔ یہ ٹرک پرنٹنگ پلانٹ سے گودام کی جانب جارہا تھا اور ڈرائیور کے آرام کے دوران کتابیں چوری ہوئیں۔ بعد میں اس واقعے کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ چارلس اسپینسر نے ڈائنا کی موت کے بعد ۱۹۹۷ء میں ان کی آخری رسومات کے موقع پر ویسٹ منسٹر ایبی میں جو تعزیتی خطاب کیا تھا، وہ بھی ان کی شناخت کا اہم حصہ بن گیا۔ اب تقریباً ۳۰؍ برس بعد ان کی نئی کتاب ڈائنا کی زندگی اور موت کے بارے میں ان کی ذاتی یادداشتوں کو ایک بار پھر عالمی توجہ کے مرکز میں لے آئی ہے۔