Updated: February 05, 2026, 6:08 PM IST
| New York
امریکی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک طالب علم کے مضمون نے ایک متنازع بحث بھڑکا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بعض زیرِ تعلیم طلبہ ’’جین‘‘ مذہب کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کر کے یونیورسٹی کے لازمی ۷؍ ہزار ۹۴۴؍ ڈالر (تقریباً ۱۷ء۷؍ لاکھ روپے) سالانہ میل پلان سے چھوٹ حاصل کرتے ہیں۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ کچھ طلبہ اس رعایت کا فائدہ اٹھا کر اپنے کھانے کا الاؤنس کیمپس کے باہر کا کھانا کھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
دنیا کے ممتاز اداروں میں شمار ہونے والی ااسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ایک زیرِ تعلیم طالب علم کے مضمون نے عالمی سطح پر تنازع اور بحث کو جنم دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ طالب علم ’’مذہبی‘‘ رعایت حاصل کرنے کے لیے جین مذہب کے ماننے والے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تاکہ وہ لازمی میل پلان (فوڈ پلان) سے چھوٹ حاصل کر سکیں۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی زیادہ تر انڈرگریجویٹس کو کیمپس میں رہنے پر لازمی meal plan کروانے کی پابندی کرتی ہے جو سالانہ ۷؍ ہزار ۹۴۴؍ ڈالر (تقریباً ۱۷ء۷؍ لاکھ روپے) کا خرچ ہے۔ تاہم اگر کیمپس کے کھانے ان ضروریات کو پورا نہ کر سکیں تو پالیسیاں مذہبی یا طبی وجوہات کی بنا پر رعایت دیتی ہیں۔ یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ایک طالب علم سیبیسٹین کونولی کا دی نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا، جس میں انہوں نے بتایا کہ کچھ ساتھی طلبہ نے اپنے آپ کو جین مذہب کا پیروکار ظاہر کیا تاکہ یونیورسٹی کے لازمی میل پلان سے مستثنیٰ ہو سکیں۔ مضمون نگار نے لکھا کہ وہ جانتے ہیں کہ کچھ طلبہ نے’جین‘ ہونے کا دعویٰ کر کے اسٹینفورڈ کے کھانوں سے نجات حاصل کی اور رقم سے کیمپس کے باہر اپنی پسند کے پکوان کھائے۔
یہ بھی پڑھئے: غازی آباد:آن لائن گیم ’’کورین لو‘‘ ٹاسک، تین نابالغ بچیوں کی خود کشی
واضح رہے کہ جین مذہب کی غذائی روایات میں گوشت، مچھلی، انڈے اور جڑ والی سبزیوں سے پرہیز شامل ہے۔ اس وجہ سے بعض یونیورسٹیاں ایسے طلبہ کو رعایت دیتی ہیں جن کے مذہبی غذائی اصول عام کیمپس کھانے میں پورے نہیں ہو پاتے۔ مضمون نگار نے لکھا کہ Let’s stop pretending this doesn’t happen یعنی ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ کچھ طلبہ واقعی مذہبی شناخت کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کے دعوے اعداد و شمار یا دستاویزی شواہد پر مبنی نہیں ہیں بلکہ وہ ان مباحثوں اور مشاہدات پر مبنی ہیں جو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کی ہیں۔ یہ معاملہ نہ صرف غذائی رعایت کے نظام بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے اخراجات، طلبہ کی فنانشل چیلنجز، اور پالیسیاں کو لے کر ایک وسیع بحث پیدا کر رہا ہے۔ آن لائن مباحثوں میں کچھ لوگوں نے کہا کہ اتنا مہنگا میل پلان طلبہ کے لیے بڑا اقتصادی بوجھ بنتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایسے راستوں کی تلاش کرتے ہیں جو ان کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ٹیکسٹائل برآمدات میں ۳۰؍فیصد حصہ داری، معاہدے سے صنعت کو بڑا فائدہ
اسی وقت، بہت سے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ کچھ دعوے سامنے آئے ہیں، لیکن ایسا الزام لگانے سے اصل مذہبی یا طبی رعایت طلب کرنے والے طلبہ کے ساتھ ناروا سلوک ہو سکتا ہے، اور ایسے نظام کا غلط استعمال نہ صرف شفافیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اعتماد کو بھی کمزور کرتا ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے اب تک ان دعووں پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے، اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی عوامی اعداد و شمار یا وضاحت سامنے نہیں آئی ہے کہ بچوں نے واقعی اتنی بڑی تعداد میں مذہبی شناخت کا دعویٰ کیا یا نہیں، اور اگر ایسا ہوا تو آیا اس کا کوئی جائزہ لیا گیا یا نہیں۔ خیال رہے کہ یہ تنازع نہ صرف تعلیم کے اخراجات اور پالیسیاں کے متعلق سوالات کو جنم دے رہا ہے بلکہ اس بات پر بھی روشنی ڈال رہا ہے کہ کس طرح بعض طلبہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نظام کو بہتر کرنے اور اس قسم کی ٹرکس کے طریقوں کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔