سپریم کورٹ میں ٹی ایم سی کو بڑی کامیابی۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 12:27 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ میں ٹی ایم سی کو بڑی کامیابی۔
مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی کے وقت ہر مرکز پر مرکزی حکومت کے افسروں کی تعیناتی کے خلاف قانونی لڑائی میں سنیچر کو ٹی ایم سی کو سپریم کورٹ میں اس وقت بڑی کامیابی ملی جب عدالت نے کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ۱۳؍ اپریل کے سرکیولر کو اُس کی روح کے مطابق نافذ کرے۔ مذکورہ سرکولر میں ووٹنگ کے وقت مرکزی حکومت کے افسران کے ساتھ ریاستی حکومت کے افسران کی تعیناتی کا بھی ذکر کیاگیاہے۔ سپریم کورٹ میں شنوائی کے بعد سنیچر کو سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نےپریس کانفرنس میں قومی میڈیا کی اس خبر کو کہ’’ٹی ایم سی کی پٹیشن خارج ہوگئی‘‘ گمراہ کن قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: یہ درست ہے کہ ساورکر کو گاندھی جی کے قتل کے الزام میں نامزد کیا گیا تھا
سبل نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی کیلئے عملے کی تعیناتی کے تعلق سے الیکشن کمیشن کے سرکیولر پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے، کیونکہ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہر میز پر ریاستی حکومت کے ایک ملازم کو بھی مقرر کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں چونکہ سبل نے یہ موقف اختیار کیا کہ کمیشن اپنے سرکیولر پر عمل درآمد کرے جس پر کمیشن نے آمادگی ظاہر کی اس لئے پٹیشن کو کوئی نئی ہدایت جاری کئے بغیر خارج کردیاگیا۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو گنتی کے عملے کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے اور اس کا۱۳؍اپریل کا سرکیولر، جس میں ریاستی حکومت کے ملازمین کی تعیناتی کا بھی نظم ہے، غلط نہیں کہا جا سکتا۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ ترنمول کانگریس کو کسی بے ضابطگی کا جو خدشہ ہے وہ بے بنیاد ہےکیونکہ سرکیولر میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے ملازمین دونوں شامل ہوں گے۔