Inquilab Logo Happiest Places to Work

مفرور ملزمین کے رشتہ داروں کو ہراساں کرنا غیر آئینی ہے: الہ آباد ہائی کورٹ

Updated: May 03, 2026, 1:05 PM IST | Allahabad

بوڑھے ماں باپ کے گھر پر چھاپہ مارنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، کہا ’’یہ انگریزوں کے زمانے کا طریقہ ہے۔‘‘

Allahabad High Court. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

الہ آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا ہےکہ کسی مفرور مجرم کو پکڑنے کیلئے اس کے بے قصور رشتہ داروں کو ہراساں کرنا نہ صرف غلط  ہےبلکہ غیر آئینی بھی ہے۔عدالت نے کہا کہ مجرموں کی تلاش کیلئے ان کے اہل خانہ کو ڈھال بنانا یا  انہیں تھانے بلا کر ذہنی دباؤ ڈالنا انگریز دور کا پرانا طریقہ ہے، جو جدید جمہوری اور آئینی نظام  میںمناسب نہیں ہے۔

جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ کی بنچ نے ریٹائرڈ کیپٹن منگل سنگھ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے  یہ اہم تبصرہ کیا۔ عدالت نے پولیس کو مستقبل میں درخواست گزار کے گھر چھاپہ مارنے یا انہیں کسی بھی طرح ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔کانپور نگر کے برّا تھانہ علاقے  میں رہنے والے  ریٹائرڈ کیپٹن منگل سنگھ کے بیٹے سندیپ تومر کو پنجاب کے ابوہر میں قتل کے ایک مقدمے میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ سزا ہونے کے بعد سے وہ فرار ہے۔ پنجاب پولیس کی اطلاع پر کانپور پولیس نے سندیپ کی تلاش میں اس کے معمر والدین کے گھر نہ صرف چھاپہ مارا بلکہ انہیں بار بار پولیس چوکی اور تھانے بلا کر ہراساں بھی کیا۔

یہ بھی پڑھئے: جبل پور کروز سانحہ، رمضان نے ۴؍ افراد کی جان بچائی

درخواست گزار منگل سنگھ  نے بتایا ہےکہ انہوں نے اپنے بیٹے کی غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وجہ سے بہت پہلے  اخبارات میں اشتہار دے کر اسے عاق کر دیا تھا اور  اب ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس پر پولیس کمشنر کی جانب سے ذاتی حلف نامہ دیکر  کہا گیا کہ درخواست گزار نے بیٹے کو عاق کرنے کا کوئی’’سرکاری سرٹیفکیٹ‘‘ پیش نہیں کیا ہے۔عدالت نے اس پر کمشنر کی سخت سرزنش کی۔  ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کہا کہ اولاد کو مکمل طور پر ترک یا عاق کرنے کا  سرٹیفکیٹ جاری کرنے والا  کوئی  ادارہ موجود ہی نہیں ہے۔ اس  لئے پولیس کا یہ مطالبہ  پوری طرح  غلط اور قانون کی بھونڈی تشریح پر مبنی ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ آج کے ڈجیٹل دور میں، جب پولیس کے پاس کسی شخص کا سراغ لگانے کیلئے  جدید تکنیکی وسائل موجود ہیں، تب بھی رشتہ داروں کو ہراساں کرنے جیسے پرانے طریقے کواپنانا پولیس کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK