ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تجاویز کو مسترد کرنے کے بعد ایرانی فوج کا انتباہ، کہا ’’امریکہ کسی بھی وعدے یا معاہدے کی پابندی نہیں کرتا۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 1:16 PM IST | Washington/Tehran
ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تجاویز کو مسترد کرنے کے بعد ایرانی فوج کا انتباہ، کہا ’’امریکہ کسی بھی وعدے یا معاہدے کی پابندی نہیں کرتا۔
واشنگٹن؍ تہران :( ایجنسی)امریکی صدر ڈو نالڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی کیلئے پیش کی گئی تجاویز کو نامنظور کر دیا ہے جس کے بعد ایرانی فوج نے انتباہ دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس کی ایک اور جنگ ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فی الحال جنگ بندی کے تعلق سے الگ الگ چینلوں کے ذریعے گفتگو جاری ہے لیکن حتمی جنگ بندی پر اب تک کوئی اتفاق نہیں ہو پایا ہے ۔
امریکی صدر نے جمعہ کی شام ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی خراب یا نامناسب معاہدے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے حالیہ فوجی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کا ۸۵؍ فیصد تباہ کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحریہ، جو خطے میں ایک وقت میں سب سے طاقتور سمجھی جاتی تھی، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس کے ۱۵۹؍ جہاز اب سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کی جانب سے عائد کردہ دباؤ ایران کی حکومت پر اثر ڈال رہا ہے،یہ سب ایران کے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی حملوں سے خلیج میں امریکی اڈوں کو شدید نقصان: سی این این رپورٹ میں انکشاف
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران پر عائد پابندیاں قبل از وقت ختم نہیں کرے گا کیونکہ یہ امریکہ کے حق میں ہے اور ایران کے خوراک کے ذخائر تین ماہ میں ختم ہو سکتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں ایک نیا نظام قائم ہو رہا ہے اور واشنگٹن یہ دیکھ رہا ہے کہ گفتگو کس سے کی جائے، کیونکہ ان کے مطابق ایرانی قیادت کی پہلی اور دوسری صف اور تیسری صف کا نصف حصہ ختم کیا جا چکا ہے۔ امریکی صدر نے ایرانی قیادت میں وضاحت کے فقدان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کوئی واضح فریق موجود نہیں ،جس سے مذاکرات کئے جا سکیں۔انہوں نے اسلام آباد کے ذریعے پیش کی گئی ایران کی حالیہ تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا۔فوجی آپشن سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو معاہدہ کرے یا مکمل تباہی کا سامنا کرے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں۔اسی تناظر میں ویب سائٹ `ایکسيوس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے اندازے کے مطابق ایران پر عائد غیر معمولی بحری محاصرہ اسے تقریباً ۵؍ ارب ڈالر کی تیل آمدنی سے محروم کر چکا ہے۔ایکسيوس کے مطابق اس وقت خلیج میں مجموعی طور پر ۳۱؍ تیل بردار جہاز موجود ہیں، جن میں ۵؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ بیرل ایرانی تیل لدا ہوا ہے، ان کی مالیت کم از کم ۴؍ ارب ۸۰؍ کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
امریکہ سے دوبارہ جنگ ہو سکتی ہے
اس دوران ایرانی فوج کے ایک اہم عہدیدار نے سنیچر کو کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے، کیونکہ امن مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو رہی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےبھی حالیہ ایرانی تجویز پر تنقید کی ہے۔ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز میں معائنہ کے نائب سربراہ محمد جعفر اسدی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تصادم کا امکان موجود ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ امریکہ کسی بھی وعدے یا معاہدے کی پابندی نہیں کرتا۔ ایران نےجو تجاویز پیش کی تھیں ان میں سب سے اہم تھا کہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو ختم کرنا اور جنگ کے دوران ہوئے اس کے نقصان کی بھر پائی کرنا جس سے امریکہ نے انکار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ، ایران جنگ کے دوران جرمنی سے تقریباً ۵؍ ہزار فوجی واپس بلائے گا
یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ ان کے ملک کو ایران سے لاحق خطرہ اب بھی موجود ہے، امریکہ اپنی سلامتی اور اتحادیوں کے تحفظ کیلئے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے مطابق مسلح افواج کی قیادت جاری رکھیں گے اور کانگریس کی اجازت کے بغیر بھی کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔ٹرمپ کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ،جب ۶۰؍ روز کی مدت ختم ہو چکی ہے، جو فوجی طاقت کے غیر مجاز استعمال کو محدود کرنے والے قانون کے تحت دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ ایران نے بھی جوابی حملے کئے اور یہ جنگ ۴۰؍ دنوں تک چلتی رہی۔ اس کے بعد پاکستان کی ثالثی میں فریقین میں جنگ بندی کی گفتگو شروع ہوئی جو ہنوز ناکام ہے۔