• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے ای ایم اسپتال میں ریاست کا پہلا بغیر چیر پھاڑ والا پوسٹ مارٹم سینٹر قائم ہوگا، ٹینڈر جاری

Updated: November 02, 2026, 4:40 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ممبئی کے ’کے ای ایم‘ اسپتال میں ریاست مہاراشٹر کا پہلا ایسا جدید پوسٹ مارٹم سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں روایتی چیر پھاڑ کے بجائے جدید طریقہ کار کے استعمال سے پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ مستقبل میں ایسا ہی مرکز جے جے اسپتال میں بھی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

The establishment of the state’s first non-invasive post-mortem center at KEM Hospital will facilitate the process. Photo: INN
کے ای ایم اسپتال میں ریاست کا پہلا بغیر چیر پھاڑ والا پوسٹ مارٹم سینٹر قائم ہونے سے آسانی ہوگی۔ تصویر: آئی این این

ممبئی کے ’کے ای ایم‘ اسپتال میں ریاست مہاراشٹر کا پہلا ایسا جدید پوسٹ مارٹم سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں روایتی چیر پھاڑ کے بجائے جدید طریقہ کار کے استعمال سے پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ مستقبل میں ایسا ہی مرکز جے جے اسپتال میں بھی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اگرچہ کئی بیرون ممالک میں پوسٹ مارٹم کیلئے یہ جدید طریقہ اختیار کیا جاتا ہے لیکن ہندوستان میں اب تک یہ عام نہیں ہے کیونکہ روایتی طریقہ کے مقابلے یہ بہت زیادہ مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ عام طور پر سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج، حادثہ یا کسی واردات میں انتقال کرجانے والوں کی لاشوں کو متعلقین کے حوالے کرنے سے قبل ان کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے تاکہ موت کی صحیح وجہ معلوم کی جاسکے، یا زخم وغیرہ کے تعلق سے ایسی تفصیلات حاصل کی جاسکیں جو عدالت میں جرم ثابت کرنے میں کار آمد  ہوں۔ اب تک دہلی کے علاوہ ممبئی سمیت پورے ملک میں پوسٹ مارٹم کیلئے روایتی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس میں آلات اور اوزاروں سے لاش کی چیر پھاڑ کی جاتی ہے حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر اعضائے رئیسہ کے نمونے بھی فارنسک جانچ کیلئے رکھ لئے جاتے ہیں۔ بہت بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو اس چیر پھاڑ اور اعضاء کے نمونے نکالنے کی وجہ سے اپنے رشتہ دار اور احباب کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروانا پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح ان کی بے حرمتی نہ ہو۔

بی ایم سی نے جمعہ کو ۱۷؍ کروڑ روپے کا ٹینڈر جاری کیا ہے تاکہ کے ای ایم اسپتال کے احاطے میں ۵؍ منزلہ مردہ خانہ کی تعمیر کی جاسکے اور اس میں پوسٹ مارٹم کیلئے ایسا انتظام کیا جائے کہ لاشوں کی چیر پھاڑ کرنے کے بجائے اسکیننگ اور تھری ڈی امیج کے ذریعہ یہ کام کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھئے: اب لیک لاڈکی اسکیم کیلئے آن لائن درخواست دینے کی سہولت، دفتروں کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں

اب تک ملک میں صرف ’اے آئی آئی ایم ایس۔دہلی‘ نے مارچ ۲۰۲۱ء میں یہ طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔ اس عمل میں ’سی ٹی اسکین‘ یا ’ایم آر آئی‘ سے تیار کی گئی تھری ڈی امیج سے جسم میں لگنے والے زخم کی گہرائی، سائز اور گولی یا دیگر کوئی آلہ کی موجودگی اور دیگر تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں۔ ضرورت پڑنے پر تھری ڈی پرنٹر سے اس تصویر کو اصلی اعضاء کی نقل کے طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے جو بالکل اصل جیسا ہوتا ہے۔

روایتی طریقہ کے مقابلے جدید طریقہ کار اس لئے بھی زیادہ کار آمد ہے کیونکہ اس کے ڈیٹا کو زیادہ طویل عرصہ تک سنبھال کر رکھنا آسان ہوگا اور ان پر کبھی بھی نظر ثانی کی جاسکے گی۔ ماہرین کسی دور دراز کے مقام پر رہتے ہوئے بھی ان تصویروں کی مدد سے ان کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اسکین میں پوشیدہ فریکچر یا بغیر آلات کی مدد لئے آنکھوں سے نظر نہ آنے والی بھی بہت سی تفصیلات دستیاب ہوسکتی ہیں۔

اس سے ڈاکٹر بھی ’انفیکشن‘ وغیرہ سے محفوظ رہیں گے اور لاش کی بے حرمتی بھی نہیں ہوگی۔ اسکیننگ سے ۱۰؍ منٹ میں بھی پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل کرنے کی گنجائش ہوگی جبکہ روایتی طریقہ کار میں چند گھنٹے صرف ہوجاتے ہیں۔

شروعات کیسے ہوئی؟

نومبر ۲۰۲۵ء میں ممبئی کے پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے ملاقات کرکے درخواست کی تھی کہ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر جے جے یا کے ای ایم اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے جدید طریقہ کار کو متعارف کرایا جائے۔ اس پر ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اس پر عمل کرنے کی تجویز دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK