کلکتہ ہائی کورٹ نے ایم پی کیخلاف ۲۹؍ جنوری تک کوئی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی، پولیس سیکوریٹی بھی برقرار۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 12:43 PM IST | Agency | Kolkata
کلکتہ ہائی کورٹ نے ایم پی کیخلاف ۲۹؍ جنوری تک کوئی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی، پولیس سیکوریٹی بھی برقرار۔
کلکتہ ہائی کورٹ نے ممتا ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف زیر التوا ایک معاملے میں۲۹؍ جنوری تک کسی بھی طرح کی تعزیری کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے موئترا کے عبوری تحفظ کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت کیلئے۱۳؍ جنوری کی تاریخ مقرر کی۔ عدالت نے موئترا کی سلامتی سے متعلق تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے پارلیمانی حلقے کے دورے کے موقع پر فراہم کی جانے والی پولیس سیکوریٹی کی مدت بھی۳۰؍ نومبر تک بڑھا دی ہے۔ کرشن نگر کے دورے پر رکن پارلیمنٹ موئترا پر انڈے پھینکے جانے اور سیاہ جھنڈے دکھائے جانے کے معاملے میں پولیس پر بھی لا پروائی کے الزامات لگے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: غزہ جنگ پر بنی ڈاکیومنٹری ’نازا‘ ریلیز، پہلے دو دن میں ۱۱؍ لاکھ یورو کمائے
جسٹس بھٹاچاریہ نے پولیس کی اس مبینہ غفلت سے متعلق عرضی کو چیف جسٹس کی صدارت والی ڈویژن بنچ کو منتقل کر دیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ جب تک چیف جسٹس کی قیادت والی ڈویژن بنچ اس عرضی کا فیصلہ نہیں کر دیتی، تب تک موئترا کو اپنے پارلیمانی حلقے کے دوروں کے دوران پولیس سکیورٹی ملتی رہے گی۔راحت ملنے کا معاملہ یکم ستمبر کو مہوا موئترا کی جانب سے پولیس افسران کے بارے میں کی گئی ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ بنگال میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ایک پروگرام سے ایک مخصوص برادری سے تعلق رکھنے والے آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کو دور رکھا گیا تھا۔ شکایت کنندہ نے اسےفرقہ وارانہ تبصرہ قراردیا تھا ۔