Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز کشیدگی، ایران کا ردعمل، انسانی بحران پر عالمی تشویش

Updated: March 13, 2026, 9:01 AM IST | Tehran

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد نہ صرف عسکری صورتحال بلکہ اس کے اسٹریٹجک اور انسانی اثرات بھی نمایاں ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

(۱) ایرانی حکومت ختم نہیں ہوسکتی: امریکی انٹیلی جنس رپورٹ
امریکی انٹیلی جنس کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ جاری جنگ اور شدید فوجی دباؤ کے باوجود ایران کی حکومت کے فوری خاتمے کے امکانات کم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کا ریاستی اور فوجی نظام اب بھی مضبوط ہے اور ملک کے سیکوریٹی ادارے صورتحال پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس میزائل اور ڈرون صلاحیت موجود ہے جس کے ذریعے وہ خطے میں اپنے مخالفین کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونی فوجی کارروائیاں کسی حکومت کو فوری طور پر گرانے کیلئے کافی نہیں ہوتیں کیونکہ داخلی سیاسی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لئے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں سیاسی تبدیلی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز سے ہندوستان کا ٹینکرگزرے گا، جے شنکر اور عراقچی کی گفتگو کے بعد فیصلہ

(۲) ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا اعادہ کیا
ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگی صورتحال جاری رہی تو اس اہم سمندری گزرگاہ میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کی قومی سلامتی اور علاقائی حکمت عملی کیلئے انتہائی اہم ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق دنیا کی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس لئے اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس علاقے میں بحری سرگرمیوں پر بھی عالمی سطح پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران سے ممکنہ جنگ بندی کا اشارہ، دعویٰ کیاتمام نشانے تباہ

(۳) ایران نے گرلز اسکول پر حملے کو ناقابل معافی جنگی جرم قرار دیا
ایران نے میناب گرلز اسکول پر ہونے والے حملے کو ’’ناقابل معافی جنگی جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اس واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں معصوم طالبات اور عام شہری متاثر ہوئے جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوع ہے اور اس واقعے پر عالمی سطح پر کارروائی ہونی چاہئے۔ ایران نے اس معاملے کو عالمی اداروں کے سامنے اٹھانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK