• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: ہیمنت بسوا شرما کا ملک بھر میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا مطالبہ

Updated: October 20, 2026, 6:04 PM IST | Basti

آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے ملک بھر میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ قانونی نظام نہ ہونے پر دعویٰ کیا کہ سب سے زیادہ مشکلات مسلم خواتین کو پیش آتی ہیں۔ اتر پردیش کے ضلع بستی کے گاؤں تیلیا جوت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کثرتِ ازدواج جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے یکساں قانونی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔

Hemanta Biswa Sharma. Photo; INN
ہیمنت بسوا شرما۔ تصویر؛ آئی این این

شرما اتر پردیش کے ضلع بستی کے گاؤں تیلیا جوت میں بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری ہریش دویدی کی والدہ کے انتقال پر ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرنے پہنچے تھے۔ صحافیوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ’’اس قانون کی عدم موجودگی میں سب سے زیادہ نقصان اور مشکلات کا سامنا مسلم خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق، کثرتِ ازدواج جیسے معاملات سے نمٹنے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ قانونی فریم ورک ضروری ہے۔ یکساں سول کوڈ سے مراد ایسا مشترکہ قانونی نظام ہے جس کے تحت مذہبی وابستگی سے قطع نظر تمام شہریوں کے لیے شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے ذاتی معاملات سے متعلق یکساں قوانین نافذ کیے جائیں۔ ہندوستان میں یہ معاملہ طویل عرصے سے سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع رہا ہے۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مشترکہ سول قوانین سے صنفی مساوات اور قانونی یکسانیت کو فروغ مل سکتا ہے، جب کہ اس کے دائرۂ کار اور مختلف مذہبی و روایتی قوانین پر اس کے اثرات سے متعلق بحث بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آرایس ایس سربراہ کا اقتدار کی تبدیلی کو طوفان مغرب قرار، ہند میں امکان مسترد

شرما نے آسام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں یو سی سی کو پہلے ہی نوٹیفائی کیا جا چکا ہے اور اسے ملک بھر میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ آسام اسمبلی نے مئی ۲۰۲۶ء میں ریاست کا یکساں سول کوڈ بل منظور کیا تھا۔ اس قانون سازی میں شادی، طلاق، وراثت اور دیگر ذاتی معاملات کے لیے مشترکہ قانونی فریم ورک کی تجویز پیش کی گئی ہے، جب کہ درج فہرست قبائلی برادریوں کو اس کے دائرے سے مستثنیٰ رکھنے کی گنجائش بھی شامل ہے۔ ایس آئی آر کے خلاف جاری احتجاج اور حکومت کی تبدیلی کے مطالبات کے حوالے سے جب شرما سے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بی جے پی کو نشانہ بنانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے انتخابی عمل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اقتدار ووٹوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، زور زبردستی یا دھونس دھمکی کی تدبیروں سے نہیں۔‘‘ شرما کے اس بیان میں ان کا مؤقف واضح تھا کہ حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ انتخابات اور ووٹوں کے ذریعے ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK