• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میانمار: آنگ سان سوچی کی نئی تصاویر جاری، شاہ چارلس سوم نے انہیں کتابیں بھیجی

Updated: October 20, 2026, 6:05 PM IST | Naypyidaw

میانمار نے آنگ سان سوچی کی نئی تصاویر جاری کیں، ساتھ ہی تصدیق کی کہ شاہ چارلس سوم نے انہیں کتابیں بھیجی ہیں، حکام نے انہیں پہلی بار ’’خصوصی خاتون قیدی‘‘ قرار دیا، جبکہ اے ایف پی کے فیکٹ چیکرنے تصدیق کی کہ تصاویر اصلی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

میانمارحکام نے بتایاکہ آنگ سان سوچی کو پیر۱۹؍ اکتوبر کو برطانیہ کے شاہ چارلس سوم کی جانب سے ایک پیکج موصول ہوا، ، اور دو ماہ میں حراست میں موجود نوبل انعام یافتہ کی پہلی تصاویر جاری کیں۔ انہیں ’’خصوصی خاتون قیدی‘‘ کے طور پر بیان کیا گیا ، میانمار جنتا حکومت نے پہلی بار سوچی کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی ہے۔ واضح رہے کہ انہیں ۲۰۲۱ء میں فوجی بغاوت میں معزول کر دیا گیا تھا، جس سے جاری خانہ جنگی شروع ہوئی ، ایک رپورٹ کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بغاوت کے لیڈر اور سابق جنتا سربراہ من آنگ ہلائنگ کو اپریل میں انتخابات کے بعد سویلین صدر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا جس میں سوچی کی پارٹی شامل نہیں تھی، اور اس کے فوراً بعد انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اے ایف پی کے فیکٹ چیکرز نے تصدیق کی کہ تصاویر حقیقی ہیں اور میٹا جنریٹو اے آئی یا اوپن اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے نہیں بنائی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مراکش کی نئی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کو خارجہ پالیسی کا مرکز قرار دیا

بعد ازاں میانمار کی صدارتی ترجمان نے اپنے فیس بک پیج پر کہا کہ وزارت داخلہ کے حکام نے ان سے ملاقات کی تاکہ دو کتابوں کا پیکج، ایک مہر بند لفافہ، اور برطانیہ کے شاہ چارلس سوم کی جانب سے خصوصی خاتون زیر حراست کو بھیجا گیا ایک مہر بند سفارتی پیغام پہنچایا جا سکے ۔ ان تک پہنچائی گئی دو کتابیں ’’دی لینڈ گارڈنرز: سوائل ٹو ٹیبل‘‘ اور ’’سوائل: دی ورلڈ ایٹ آور فیٹ‘‘ تھیں۔ بیان کے ساتھ سوچی کی دو تصاویر تھیں جن میں وہ دو مردوں سے مل رہی ہیں جن کی پیٹھ کیمرے کی طرف ہے۔ یہ تصاویر اسی کمرے میں نظر آئیں جہاں ان کی اس وقت کی جاری کردہ تصاویر تھیں، جب وہ اگست میں ریڈ کراس کے نمائندے سے ملی تھیں، جو ان کے معزول ہونے کے بعد کسی غیر ملکی اہلکار کے ساتھ ان کی پہلی تشہیر شدہ ملاقات تھی۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین: طلبہ کی رہائش کیلئے ۵۰؍ ملین ڈالر مختص کرنے کا اعلان

دراصل برطانیہ میانمار کی سابقہ نوآبادیاتی طاقت ہے اور بادشاہ کو باغبانی اور ماحولیات میں گہری دلچسپی کے لیے جانا جاتا ہے۔ اے ایف پی کے سوالات کے جواب میں لندن میں دفتر خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا برطانوی سفارت کاروں نے ذاتی طور پر پیکج پہنچانے کی کوشش کی تھی، یا انہیں ایسا کرنے کی اجازت سے انکار کر دیا گیا تھا۔ برطانیہ اس من مانی حراست کے طور پر مذمت کرتا رہاہے اور فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔جبکہ سوچی ان الزامات پر حراست میں ہیں جن کے بارے میں حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ فوج کو اقتدار واپس دلانے کے لیے گھڑے گئے تھے، جس نے تاریخی طور پر آزادی کے بعد سے میانمار پر حکومت کی ہے۔ حالانکہ من آنگ ہلائنگ نے گزشتہ ماہ ٹائم میگزین میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا، ’’میں اس کے تئیں انتہائی نرم رہا ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK