• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ظہران ممدانی کا روڈی جیولیانی کو جواب، ۱۱؍ ستمبر یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے

Updated: September 08, 2026, 11:08 AM IST | New York

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے سابق میئر روڈی جیولیانی کی مخالفت کے باوجود ۱۱؍ ستمبر کی یادگاری تقریب میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ جیولیانی نے ممدانی کی تقریب میں شرکت کو ’’باعثِ تکلیف‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ زیرو سے دور رہنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ممدانی نے کہا ہے کہ وہ ۹/۱۱؍ حملوں میں جانیں گنوانے والوں اور ان کے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریب میں ضرور شریک ہوں گے۔

Zohran Mamdani and former New York Mayor Rudy Giuliani. Photo: X
ظہران ممدانی اور نیویارک کے سابق میئر روڈی جیولیانی۔ تصویر: ایکس

 نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے سابق میئر روڈی جیولیانی کی جانب سے ان کی ۱۱؍ ستمبر کی یادگاری تقریبات میں شرکت کی مخالفت کے باوجود واضح کیا ہے کہ وہ تقریب میں ضرور شریک ہوں گے۔ جیولیانی نے ممدانی کی شرکت کو اپنے لیے ’’باعثِ تکلیف‘‘ قرار دیتے ہوئے ان سے تقریب سے دور رہنے کا مطالبہ کیا تھا۔  ممدانی نے پیر کو اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعہ کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مقام پر ہونے والی سالانہ ۱۱؍ ستمبر یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ان کی توجہ ان خاندانوں پر ہوگی جنہوں نے ۲۵؍ سال قبل ہونے والے دہشت گرد حملوں میں اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا۔  ممدانی نے کہا، ’’مجھے نیویارک کا میئر ہونے پر فخر ہے۔ میں اس شہر سے محبت کرتا ہوں اور اپنے ملک سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس ہفتے ان کی توجہ ان خاندانوں پر ہوگی جن کے پیارے ۲۵؍ سال قبل ۱۱؍ ستمبر کے ’’ہولناک دہشت گرد حملے‘‘ میں ان سے چھین لیے گئے۔ انہوں نے اس موقع پر ان امدادی کارکنوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا کہا جنہوں نے حملوں کے بعد نیویارک کے شہریوں کی مدد کیلئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں اور ان لوگوں کو بھی یاد کرنے پر زور دیا جو اس سانحے کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: نتن یاہوکی لیکوڈ پارٹی کی مقبولیت میں مزید کمی، حکومت بنانے کی راہ دشوار: سروے

جیولیانی نے ممدانی کی شرکت کی مخالفت کیوں کی؟

 سابق نیویارک میئر روڈی جیولیانی، جو ۲۰۰۱ء کے دہشت گرد حملوں کے وقت شہر کے میئر تھے، نے ممدانی کی ۹/۱۱؍ کی ۲۵؍ ویں برسی کی تقریبات میں شرکت پر سخت اعتراض کیا ہے۔  جیولیانی نے دائیں بازو کے نیوز نیٹ ورک نیوزمیکس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممدانی کو تقریب میں شرکت نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے ممدانی کی شرکت کو ’’باعثِ تکلیف‘‘ قرار دیا اور ان کے مذہب کے حوالے سے بھی انتہائی متنازع اور اسلام مخالف تبصرے کیے۔  جیولیانی نے ممدانی کا موازنہ ۱۱؍ ستمبر کے حملہ آوروں سے بھی کیا اور الزام عائد کیا کہ ممدانی امریکہ کے بارے میں ان حملہ آوروں جیسی مبینہ سوچ رکھتے ہیں۔ ان کے بعض دیگر دعووں کو ذرائع نے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ جیولیانی نے اس سے قبل بھی ممدانی کی ۹/۱۱؍ کی تقریبات میں شرکت کی مخالفت کی تھی۔ اگست میں انہوں نے نیوزمیکس پر ایک گفتگو کے دوران امریکہ میں اسلامی قانون کے نفاذ اور مسلمانوں کی جانب سے امریکہ پر غلبے کے حوالے سے بھی سازشی نوعیت کے دعوے کیے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: بلجیم کی وزیرِ ہجرت نے غزہ کے ۱۳ فلسطینی طلبہ کے ملک میں داخلے کی مخالفت کی

ممدانی کے خلاف آن لائن مہم

 ممدانی کو ۹/۱۱؍ کی یادگاری تقریب میں شرکت سے روکنے کیلئے ایک آن لائن پٹیشن بھی شروع کی گئی، جس پر اتوار تک تقریباً ایک لاکھ دستخط ہوچکے تھے۔ اس مہم میں بعض قدامت پسند حلقوں نے ممدانی کے ماضی کے بیانات اور سیاسی روابط کو بنیاد بنایا۔ تاہم ممدانی نے اس دباؤ کے باوجود تقریب میں شرکت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔  رپورٹس کے مطابق تقریب میں ممدانی کی شرکت کے دفاع میں ۹/۱۱؍ متاثرین کے بعض خاندان بھی سامنے آئے ہیں۔ تقریباً ۲۵۰؍ متاثرہ خاندانوں کے افراد نے ان کوششوں کی مذمت کی جن کا مقصد ممدانی کو گراؤنڈ زیرو کی یادگاری تقریبات سے دور رکھنا ہے۔

ممدانی نے ۱۱؍ ستمبر کو ’’یومِ یاد اور خدمت‘‘ قرار دے دیا

 یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ممدانی نے ۱۱؍ ستمبر کو نیویارک شہر کیلئے ’’Day of Remembrance and Service‘‘ یعنی ’’یومِ یاد اور خدمت‘‘ قرار دیا ہے۔  ممدانی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے دو ایگزیکٹو احکامات میں ۱۱؍ ستمبر کے موقع پر یادگاری تقریبات، خاموشی کے ایک لمحے اور تعلیمی سرگرمیوں پر زور دیا گیا ہے۔ دوسرے حکم کے تحت شہر کی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔  ممدانی کا کہنا ہے کہ ۱۱؍ ستمبر کو صرف ماضی کی یاد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس سانحے سے سبق حاصل کرتے ہوئے شہر کی حفاظت، تیاری اور عوامی خدمت کو بھی مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ کا شادی شدہ جوڑوں کو بچوں کی گھر پر پرورش کرنے کیلئے رقم دینے کے منصوبے پر غور

نیویارک کی سیاست میں نیا تنازع

 ممدانی کی ۹/۱۱؍ تقریب میں شرکت کا معاملہ نیویارک کی سیاست میں ایک بڑے ثقافتی اور سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ وہ نیویارک شہر کے پہلے مسلمان میئر ہیں، اس لیے ان کی ۹/۱۱؍ کی یادگاری تقریب میں شرکت کو خاص علامتی اہمیت حاصل ہے۔  ممدانی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کسی مسلمان میئر کو مذہب کی بنیاد پر ۹/۱۱؍ کی یادگاری تقریب سے دور رکھنے کی کوشش خود اس تقریب کے پیغامِ اتحاد کے خلاف ہے۔ دوسری جانب ان کے ناقدین ان کے سابقہ سیاسی بیانات اور بعض سیاسی شخصیات سے روابط کو بنیاد بنا کر ان کی شرکت پر اعتراض کر رہے ہیں۔ نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے بھی ممدانی کی شرکت کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا تقریب سے غیر حاضر رہنا زیادہ تر متاثرہ خاندانوں کیلئے زیادہ بے توقیری کا باعث بن سکتا ہے۔ ممدانی نے واضح کیا ہے کہ وہ جیولیانی کے اعتراضات کو اپنے فیصلے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے اور ۱۱؍ ستمبر کی تقریبات میں ان لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے شریک ہوں گے جنہوں نے دہشت گرد حملوں میں جانیں گنوائیں، زخمی ہوئے یا دوسروں کی مدد کرتے ہوئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔ جمعہ کی تقریب میں سابق صدور بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور براک اوباما سمیت دیگر اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK