۸؍ماہ میں ۲۵؍ ہزار سے زائد افراد پر کروڑوں روپے جرمانہ عائد کیا گیا،۲۹۰؍افراد کے خلاف ایف آئی آر درج، ڈھائی سو سے زائد لائسنس معطل۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 3:38 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
۸؍ماہ میں ۲۵؍ ہزار سے زائد افراد پر کروڑوں روپے جرمانہ عائد کیا گیا،۲۹۰؍افراد کے خلاف ایف آئی آر درج، ڈھائی سو سے زائد لائسنس معطل۔
غلط اور مخالف سمت گاڑی چلانے کی مسلسل ملنے والی شکایتوں کے بعد ٹریفک پولیس نے ایک طرف جہاں مذکورہ طرز عمل سے ہونے والےحادثات پر قابو پانے اور شہریوں کی جان کی حفاظت کے پیش نظر چلائی جانے والی مہم کو اور تیز کردیا ہے، وہیں دوسری طرف غلط اور مخالف سمت گاڑی چلانے والوں پر قدغن لگانے اورسبق سکھانے کے مقصد سے جوائنٹ کمشنر آف پولیس ( ٹریفک ) ستیہ نارائن چودھری نےنہ صرف سخت کارروائی کے ساتھ گاڑیوں کو ضبط کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کا سلسلہ دراز کیا ہے بلکہ کروڑوں روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
شہر کوٹریفک جام اورجان لیوا حادثات سے محفوظ رکھنے کے لئے ٹریفک پولیس وقفہ وقفہ سے ناکہ بندی اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوںکے خلاف کارروائی کرتی رہتی ہے۔ شہر اور مضافات میں غلط اور مخالف سمت گاڑی چلانے کے واقعات میں اضافہ اور بے شمار شہریوں سے ملنے والی شکایت کے بعد ممبئی ٹریفک پولیس نے تمام ۴۱؍ٹریفک ڈویژنوں میںان کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کر دیا ہے۔اس سلسلے میں انتہائی حساس علاقو ںمیں صبح سے رات دیر تک خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ گزشتہ ۸؍ ماہ میں غلط اور مخالف سمت سے گاڑی چلانے والے ۲۵؍ ہزار ۵۳۰؍ ڈرائیوروں پرکارروائی کرتے ہوئے ایک کروڑ ۲۵؍ لاکھ سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے انتہائی لاپروائی سے گاڑی چلاتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی جان کو خطرہ میں ڈالنے والے ۲۵۳؍ ڈرائیوروں کے لائسنس معطل کر دیئے گئے ہیں جبکہ ۲۹۰؍کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ تیز رفتار مخالف سمت کئی گاڑی چلانے والوں کی گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں ۔گزشتہ سال اسی مہم کے تحت ۱۱؍ ہزار ۷۶۲؍ افراد کے خلاف کارروائی کی گئی تھی اور کروڑوں روپے جرمانہ وصول کیا گیا تھا ۔وہیں ایک سینئر ٹریفک پولیس نے بتایاکہ مذکورہ مسئلہ پر قابو پانے اور سختی کے ساتھ کئی مہم چلانے کے باوجود اس پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تکارام منڈے کی جون تا اگست ۸۸۰؍ دواساز کمپنیوں کیخلاف کارروائی
مذکورہ معاملہ میں مخالف سمت گاڑی چلانے کے ایک دوسرے پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے منیش دلال اور حسین پان والا کا کہنا تھا کہ ’’ قلابہ ، کف پریڈ ، ناگپاڑہ ، مدنپورہ کے علاوہ پربھا دیوی ،سہارایئر پورٹ ، ملنڈ، ماہم درگاہ روڈ، ملاڈ، مہاکالی کیوز کی طرف کئی راستہ ون وے ہونے کے باوجود وہاں ٹریفک پولیس کی جانب سے کوئی بورڈ آویزاں نہیں کیا گیاہے جس کی وجہ سے غلطی یا بے خیالی میں ڈرائیور اس روٹ پر نکل جاتا ہے ۔‘‘قلابہ کے رہنےوالے ڈاکٹر سالیان کے بقول:’’ بہت سے لوگ جان بوجھ کرغلط اور مخالف سمت لاپروائی سے گاڑی چلاتے ہوئے ٹریفک جام کا سبب ہی نہیں بنتے ہیں بلکہ اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘‘
واضح رہےکہ ڈاکٹر سالیان نےکوسٹل روڈ میں مخالف سمت گاڑی چلانے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کی تھی تو گاڑی پرسوار ۲؍افراد نے انہیں زد وکوب کیا تھا جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف کارروائی بھی کی تھی۔
جوائنٹ کمشنر آف پولیس (ٹریفک ) نے کیا کہا؟
جوائنٹ کمشنر آف پولیس (ٹریفک )ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ’’ شہریوں سے ملنےوالی شکایتوں کے علاوہ ناکہ بندی اور گشت کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ غلط اور مخالف سمت گاڑی چلانے والوں کے سبب ٹریفک جام کا شدید مسئلہ ہوتا اور جان لیوا حادثات ہونے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ غلط اور مخالف سمت گاڑی چلانے والوں پر گاڑیوں کو ضبط کرنے ، لائسنس معطل کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے ۔‘‘