ٹریفک پولیس نے کھانے پینے اور دیگر اشیاء کی آن لائن ڈیلیوری کے دوران دیگرافراد کی جان کو خطرے میں ڈالنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو مکمل طور پر بند کرنے کو کہا۔ اس ہدایت پر عمل نہ کرنے پر سخت کارروائی کا انتباہ ۔
ڈیلیوی پارٹنر۔ تصویر:آئی این این
شہر اور مضافات میں کرتب بازی کرنے والے نوجوانوں کے علاوہ کھانے پینے کی چیزیں آن لائن فروخت کرنے والی کمپنیوں کا سامان ڈیلیور کرنے والے بھی اپنی ہی نہیں دوسروں کی جان کیلئے بھی خطرہ بنتے ہیں ۔ اس لئے کھانے پینے اور دیگر سامان کی آن لائن ہوم ڈیلیوری کرنے والی کمپنیوں کو متنبہ کرتے ہوئے ممبئی ٹریفک پولیس نے منٹوں میں ڈیلیوری کرنے کے سسٹم کو ختم کرنے اور ڈیلیوری بوائے کے علاوہ شہریوں کیلئے خطرہ بننے کےاس طریقے کو بند کرنے کا حکم دیا ہے ۔
اس ضمن میں احکامات جاری کرنے سے قبل مختلف کمپنیوں کو بارہا ہدایت دی جاتی رہی ہے ۔یہی نہیں کمپنیوں کو ہدایت دینے سے قبل گزشتہ ایک ہفتہ میں کی گئی کارروائی کے دوران ۸؍ ہزار ڈیلیوری بوائے کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ، ای چالان جاری کیا گیا ہے اور ہزاروں روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا ۔ الیکٹرک بائیک کے ذریعہ منٹوں میں سامان کی ڈیلیوری کرنے کے چکر میں اکثر ڈیلیوری بوائے اپنی جان کے ساتھ دوسروں کی جان کیلئے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔ بعض اوقات حادثات کا سبب بھی بننے ہیں۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے ممبئی ٹریفک پولیس نے کھانے پینے ، گرو سری اور دیگر ضروریات زندگی کے سامان کی ڈیلیوری کرنے والی کمپنیوں کے ذمہ داران کے ساتھ ایک میٹنگ کا اہتمام کیا تھا ۔
اس میٹنگ میں آن لائن سامان کی ڈیلیوری کرنے کا ایپ چلانے والی کمپنیوں کو الیکٹرک بائیک سے ڈیلیوری کرنے کیلئے ایک اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر ( ایس اوپی )بنانےکا حکم دیا ہے ۔ ساتھ ہی منٹوں میں سامان کی ڈیلیوری کرنے خصوصی طورپر کھانے پینے کے سامان کی ڈیلیوری کرتے وقت منٹوں میں سامان پہنچانے کے سسٹم یا طریقہ کار کو سرے سے ختم کرنے کی ہدایت دی ہے ۔
میٹنگ میں موجود کمپنیوں کے نمائندوں کو ڈیلیوری بوائے کے انتخاب سے متعلق جہاں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان کا شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ حاصل کریں وہیں پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کو بھی لازمی قرار دیا ہے ۔ساتھ ہی اپنے ڈیلیوری پارٹنرس کے تمام ریکارڈ کو بھی محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت دی ہے ۔
اس ضمن میں کئے جانے والے اقدامات اور جاری کردہ ہدایت کی تصدیق کرتے ہوئے جوائنٹ کمشنر ( ٹریفک ) ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ’’ آن لائن گھریلو اشیاء فراہم کرنے والی کمپنیاں جن ڈیلیوری بوائز کو ملازمت پر رکھتی ہیں ، ان پر منٹوں میں سامان ڈیلیور کرنے کی شرط بھی عائد کرتی ہے ،جس کی وجہ سے وہ عجلت میں گاڑی چلاتے ہیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔یہی نہیں ان کی لاپروائی کے سبب اکثر سڑک حادثہ کا سبب بننے کے علاوہ اپنی اور دوسروں کی جان کیلئے بھی خطرہ بنتے ہیں ۔اس لئے ان کمپنیو ںکومنٹوں میں ڈیلیوری سسٹم کو ختم کرنے ساتھ ہی ڈیلیوری بوائے کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنے اور ان پر نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔‘‘
موصولہ اطلاع کے مطابق مذکورہ بالا ہدایات جاری کرنے سے قبل گزشتہ ایک ہفتہ کے درمیان ٹریفک پولیس نے آن لائن ڈیلیوری کرنے والے ۸؍ ہزار ۳۹۹؍ ڈیلیوری بوائز کے خلاف کارروائی کی ہے اور ہزاروں روپے کا ای چالان جاری کیا ہے ۔ مذکورہ بالا معاملہ میں ٹریفک پولیس کی جاری کردہ ہدایت میں اس بات سے بھی متنبہ کیا ہے کہ آئندہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی اور جرمانہ وصول کرنے کے ساتھ گاڑیاں ضبط کر لی جائیں گی۔