۱۴؍ نکات پر اتفاق کا دعویٰ مگرایران نے واضح کیا کہ ’’امریکہ ہاری ہوئی جنگ سے وہ حاصل نہیں کرسکتا جو دو بدو مذاکرات میں حاصل نہیں کرسکا‘‘
ایران کی ایک سڑک پر ٹرمپ کی تصویر جس میںان کے ہونٹ سی دیئے گئے ہیں۔ تصویر:آئی این این
امریکی ذرائع ابلاغ نے امریکہ اورایران کے درمیان قیام امن پر اتفاق قائم ہوجانے کا دعویٰ کرتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ دونوں ممالک ۱۴؍ نکات پر مشتمل ایک صفحاتی میمورنڈم پر متفق ہوسکتے ہیں جس کے تحت امریکہ ایران کے اثاثوں کو لوٹائے گا اور ایران آبنائے ہرمز کو کھول دیگا نیز اپنا نیوکلیائی پروگرام بند کردے گا۔ بہرحال ایران نےاس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان ابراہیم رضائی نے اسے ’’امریکی خواہشات کی فہرست‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن جو چیزیں دو بدو ملاقات میں گفتگو کے دوران حاصل نہیں کرسکتا وہ اُسے ہاری ہوئی جنگ سے نہیں ملیں گی۔
حالانکہ ابراہیم رضائی کے اس بیان کو امن معاہدہ سے متعلق امریکی دعوؤں کی تردید کے طور پر دیکھا جارہاہے مگر امریکہ میں ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وہائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مفاہمت پربہت جلد دستخط ہو جائیں گے۔ امریکہ کی خبر رساں ویب سائٹ ’’ایکسِیوس‘‘ کے مطابق وہائٹ ہاؤس ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت تیار کر رہا ہے جو ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات کیلئے ایک فریم ورک فراہم کرے گی۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجوہات میں ایران کا جوہری پروگرام اہم ہے۔ رپورٹ میں ۲؍امریکی عہدیداروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کو توقع ہے کہ ایران۴۸؍گھنٹوں کے اندر اس مفاہمتی یاد داشت کے اہم نکات پر جواب دے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی دونوں ممالک کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد مذاکرات کے آغاز سے اب تک فریقین اس وقت معاہدہ کے سب سے زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز ابھی زیر غور ہے۔