Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی مالویہ نگر آتشزدگی: ۵؍ مسلم نوجوانوں نے درجنوں افراد کو بچایا

Updated: June 04, 2026, 6:00 PM IST | New Delhi

جنوبی دہلی کے مالویہ نگر میں ہوٹل میں لگنے والی ہولناک آگ کے دوران پانچ مسلم نوجوانوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر جلتی عمارت میں داخل ہو کر متعدد افراد کو بچایا۔ بی جے پی ایم ایل اے ستیش اپادھیائے نے ان کی بہادری کو سراہتے ہوئے انہیں سلام پیش کیا۔ مقامی دکانداروں، رضاکاروں اور شہریوں نے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ حادثے میں ۲۱؍ افراد ہلاک ہوئے جبکہ ۴۷؍ کو بچا لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں ہوٹل میں سنگین حفاظتی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے اور مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

Muslim youth who came as messiahs in Delhi fire. Photo: X
دہلی آتشزدگی میں مسیحا بن کر آنے والے مسلم نوجوان۔ تصویر: ایکس

جنوبی دہلی کے مالویہ نگر میں بدھ کو ایک ہوٹل میں لگنے والی تباہ کن آگ کے دوران پانچ مسلم نوجوانوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر متعدد افراد کو موت کے منہ سے نکال لیا۔ مالویہ نگر کے بی جے پی رکن اسمبلی ستیش اپادھیائے نے سوشل میڈیا پر ان نوجوانوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان کی جرات اور انسان دوستی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’ان بہادروں کو سلام۔‘‘ اپادھیائے کے مطابق افضل، محمد شاہ رخ، محمد انیس، محمد عامر اور محمد وسیم نے دہلی پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر کئی مرتبہ جلتی ہوئی عمارت میں داخل ہو کر پھنسے ہوئے افراد کو باہر نکالا۔ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر لوگوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ریسکیو آپریشن صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ مقامی باشندوں، دکانداروں، مزدوروں اور قریبی گیسٹ ہاؤسیز میں مقیم افراد نے بھی امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

ان میں ۶۱؍ سالہ ریاض الدین بھی شامل تھے جو ہوٹل کے سامنے گدوں کی دکان چلاتے ہیں۔ آگ بھڑکنے کے بعد انہوں نے فوری طور پر اپنی دکان سے تمام گدے نکال کر عمارت کے نیچے بچھا دیے تاکہ اوپری منزلوں سے چھلانگ لگانے والے افراد کو محفوظ لینڈنگ مل سکے۔ رپورٹس کے مطابق اس عمل میں ریاض الدین کو تقریباً دو لاکھ روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ مطمئن ہیں کیونکہ ان کی کوششوں سے کم از کم دس افراد کی جان بچ گئی۔ حادثے کے ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھوئیں اور شعلوں میں گھرے افراد اوپری منزلوں سے جان بچانے کے لیے چھلانگ لگا رہے تھے جبکہ نیچے موجود مقامی لوگ انہیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
حوض رانی کا علاقہ ساکیت کے بڑے اسپتالوں کے قریب واقع ہونے کے باعث بجٹ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسیز سے بھرا ہوا ہے، جہاں اکثر مریضوں کے اہل خانہ قیام کرتے ہیں۔ مقامی افراد کو خدشہ تھا کہ باہر سے آنے والے مہمان علاقے سے ناواقف ہونے کی وجہ سے آسانی سے فرار کا راستہ تلاش نہیں کر پائیں گے۔ قریبی رہائشی اور میکس اسپتال کے سیکوریٹی افسر وسیم رضا نے بھی امدادی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’میں نے تہہ خانے سے تیسری منزل تک کم از کم دس افراد کو سی پی آر دیا۔‘‘
اسی طرح ۴۰؍ سالہ محمد اسرار خان، جو آگ پر جزوی قابو پانے کے بعد عمارت کے اندر داخل ہوئے، نے بتایا کہ ’’لوگ دھوئیں اور راکھ میں لپٹے ہوئے تھے۔ کئی افراد مدد کے لیے چیخ رہے تھے۔ ہم نے زخمیوں کو باہر نکالا اور کئی لاشوں کو چادروں میں لپیٹ کر منتقل کیا۔‘‘
فائر ایمرجنسی ٹرینر محمد شعیب نے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ ان کے مطابق، ’’امدادی ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے تقریباً نو افراد عمارت سے چھلانگ لگا چکے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جس ڈرائیور کے چند الفاظ نے ایک خاندان کی جان بچائی وہ خود حادثے میں فوت ہو گیا

حکام کے مطابق آگ سے مجموعی طور پر ۴۷؍ افراد کو زندہ نکال کر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ ۲۱؍ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ مرنے والوں میں متعدد غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں نو افریقی ممالک اور دو ترکمانستان کے شہری شامل بتائے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں سنگین حفاظتی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ حکام کے مطابق ہوٹل فائر ڈپارٹمنٹ کی لازمی منظوری کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ پولیس نے ہوٹل کے مالک لوکیش بجاج کو گرفتار کر کے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات ۱۰۵؍ اور ۳۲۶؍ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت کو صرف چھ کمروں کی منظوری حاصل تھی لیکن وہاں مبینہ طور پر ۲۰؍  سے زائد کمرے تھے۔ مزید یہ کہ عمارت میں صرف ایک داخلی و خارجی راستہ موجود تھا، جس نے آگ لگنے کے دوران انخلا کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ان نوجوانوں اور مقامی شہریوں کی بہادری کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ مذہب، زبان اور شناخت سے بالاتر ہو کر انسانی جانوں کو بچانے کی یہ مثال انسانیت کی بہترین تصویر پیش کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK