Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی کوریا: بلدیاتی انتخابات میں حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت

Updated: June 04, 2026, 5:01 PM IST | Seoul

جنوبی کوریا میں منعقدہ بلدیاتی اور پارلیمانی ضمنی انتخابات میں حکمران ڈیموکریٹک پارٹی نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے بیشتر اہم نشستیں اپنے نام کر لیں۔ صدر لی جے میونگ کی پارٹی نے ۱۶؍ میں سے ۱۲؍ میئر اور گورنر کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ ضمنی پارلیمانی انتخابات میں بھی نو نشستیں جیت لیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ڈیموکریٹک پارٹی آف کوریا نے جنوبی کوریا کے بلدیاتی اور پارلیمانی ضمنی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کے سیاسی منظرنامے میں اپنی برتری مزید مستحکم کر لی ہے۔ یونہاپ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حکمراں جماعت نے ۲۰۲۴ء کے قانون ساز انتخابات میں اپنی مضبوط کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے مقامی حکومتوں اور ضمنی پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ حتمی نتائج کے مطابق صدر Lee Jae-myung کی پارٹی نے ۱۶؍ اہم میئر اور گورنر کے عہدوں میں سے ۱۲؍ پر فتح حاصل کی۔ ان میں ملک کے بڑے شہروں اور اہم انتظامی علاقوں کی نشستیں بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایک سال بعد نریندر مودی وزیر اعظم نہیں ہوں گے: راہل گاندھی کا دعویٰ

دوسری جانب مرکزی اپوزیشن جماعت People Power Party صرف چار نشستیں جیت سکی، جن میں دارالحکومت سیول کی اہم نشست بھی شامل ہے۔ پارلیمانی ضمنی انتخابات میں بھی حکمران جماعت نے برتری برقرار رکھی۔۱۴؍ نشستوں کے لیے ہونے والے انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی نے نو نشستیں حاصل کیں، جبکہ پیپلز پاور پارٹی چار نشستوں پر کامیاب رہی۔ ایک نشست ایک آزاد امیدوار کے حصے میں آئی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان ۱۴؍ نشستوں میں سے ۱۳، پہلے ہی حکمراں جماعت کے پاس تھیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی اپنے روایتی ووٹ بینک کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔
۳۰۰؍ رکنی قومی اسمبلی میں پہلے ہی اکثریت رکھنے والی حکمران جماعت کے لیے یہ نتائج سیاسی طور پر انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس کامیابی سے صدر لی جے میونگ کی حکومت کو اپنے اصلاحاتی پروگرام اور قانون سازی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے مزید مضبوط عوامی مینڈیٹ حاصل ہو گیا ہے۔ انتخابات کے دوران ووٹروں نے ۱۶؍ تعلیمی سپرنٹنڈنٹس، ۲۲۷؍ مقامی حکومتوں کے سربراہان اور تقریباً ۴؍ ہزار مقامی کونسل اراکین کا بھی انتخاب کیا۔ یہ انتخاب صدر لی جے میونگ کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ہوئے، جسے عوامی اعتماد کے ایک اہم امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی افریقہ : تارکین وطن مخالف ہجوم کے گھر گھر چھاپوں سے دہشت کاماحول

رپورٹ کے مطابق انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ ۱۹۹۵ء میں جنوبی کوریا کے پہلے ملک گیر بلدیاتی انتخابات کے بعد سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جو عوامی دلچسپی اور سیاسی سرگرمی میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جنوبی کوریا میں بلدیاتی انتخابات ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور انہیں قومی اسمبلی کے انتخابات کے درمیان اس انداز میں شیڈول کیا جاتا ہے کہ دونوں بڑے انتخابی عمل ایک دوسرے سے نہ ٹکرائیں۔حالیہ نتائج نہ صرف حکمران جماعت کے لیے سیاسی اعتماد کا اظہار ہیں بلکہ آنے والے برسوں میں جنوبی کوریا کی داخلی پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات پر بھی ان کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK