کے ڈی ایم سی کے محکمہ تعلیم کے زیر انتظام جاری تقریباً ۶۰ ؍اسکولوں میں اس وقت چپراسی اور درجہ چہارم کے ملازمین کی کمی ہے۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 11:41 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan
کے ڈی ایم سی کے محکمہ تعلیم کے زیر انتظام جاری تقریباً ۶۰ ؍اسکولوں میں اس وقت چپراسی اور درجہ چہارم کے ملازمین کی کمی ہے۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے اسکولوںمیں ملازمین نہ ہونے کی وجہ سے اسکولوں کو روزانہ صاف ستھرا رکھنے کیلئے اساتذہ اور طلبہ کو خود جھاڑو لگانا پڑتا ہے۔اپنے بچوں سے کلاس روم کی صفائی کے کام کروائے جانے پر والدین نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔کے ڈی ایم سی کے محکمہ تعلیم کے زیر انتظام چلنے والے تقریباً ۶۰ ؍اسکولوں میں اس وقت چپراسی اور درجہ چہارم کے ملازمین کا شدید قحط ہے۔مستقل صفائی عملہ نہ ہونے کے سبب اسکولوں کو روزانہ صاف ستھرا رکھنے کے لئے اساتذہ اور زیرِ تعلیم طلبہ کو خود ہی جھاڑو اٹھانا پڑ رہا ہے۔اس صورتحال پر طلبہ کے والدین نے شدید غم و غصے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے شہری انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ تعلیم کے لئے بھیجے گئے بچوں سے صفائی کا کام کیوں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر اسکولوں میں چپراسیوں اور صفائی عملے کی مستقل تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ بیشتر اسکول غریب بستیوں، چالوں اور جھگی جھوپڑیوں کے اطراف واقع ہیں۔ان اسکولوں میں پہلی سے ساتویں جماعت اور بعض اسکولوں میں اس سے آگے کی کلاسیں بھی چلائی جا رہی ہیں جہاں مراٹھی، اردو، ہندی اور انگریزی میڈیم میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔گھر سے نزدیک اسکول ہونے کے سبب محنت کش طبقے کے بچے بڑی تعداد میں یہاں پڑھنے آتے ہیں لیکن اسکولوں میں صفائی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے کلاس روم کی روزانہ صفائی کی تمام تر ذمہ داری اساتذہ اور طلبہ کے نازک کندھوں پر آن پڑی ہے۔کلاس روم میں دن بھر کاغذ کے ٹکڑے، پنسل و ربر کا کچرا اور دیگر کوڑا جمع ہو جاتا ہے۔ اس کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لئے کوئی الگ چپراسی موجود نہیں جس کے باعث روزانہ تدریس شروع ہونے سے قبل اساتذہ کو بچوں سے جھاڑو لگوانی پڑتی ہے۔ اس صورتحال نے اساتذہ پر تدریس کے علاوہ ایک غیر ضروری اور اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اُردو اسکول کی نہم جماعت کی طالبہ کا کارنامہ، انگریزی میں ناول لکھا
معاملہ صرف کلاس روم تک محدود نہیں بلکہ متعدد اسکولوں کے صدر دروازوں پر حفاظتی تالے یا گیٹ تک موجود نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسکول کی چھٹی کے بعد احاطے میں آوارہ کتے اور مویشی گھومتے رہتے ہیں۔رات کے اوقات میں نشے کے عادی افراد برآمدوں میں بیٹھ کر شراب نوشی کرتے ہیں اور گندگی پھیلا تے ہیں۔ چپراسی نہ ہونے کے باعث تعلیمی معائنے کے لئے آنے والے افسران کے استقبال، پانی پلانے اور دیگر دفتری انتظامات کا بار بھی اساتذہ ہی کو اٹھانا پڑتا ہے جس سے اساتذہ میں بھی اندرونی طور پر بے چینی پائی جاتی ہے۔
بعض والدین نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ہم اپنے گھروں میں بچوں سے جھاڑو نہیں لگواتے مگر اسکول بھیجنے پر ان سے صفائی کروائی جا رہی ہے جو قطعی ناقابل قبول ہے۔
اس سنگین مسئلے پر وضاحت دیتے ہوئے کے ڈی ایم سی محکمہ تعلیم کے ایجوکیشن آفیسر بھارت بورنارے نے اعتراف کیا کہ میونسپل اسکولوں میں چپراسیوں اور مستقل صفائی عملے کی واقعی شدید کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے ملازمین کی اشد ضرورت ہے۔اگر کم از کم چار سے پانچ اسکولوں کے درمیان ایک صفائی ملازم بھی فراہم کر دیا جائے تو روزانہ صفائی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فی الوقت باقاعدہ عملہ نہ ہونے کے سبب وقتی طور پر اسکول انتظامیہ کی سطح پر ہی یہ انتظامات سنبھالے جا رہے ہیں۔