انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز پرائمری اسکول کی طالبات نے پلاسٹک کےاستعمال، جنک فوڈ اور نشہ کی لت سے ہونےوالے نقصانات پرنکڑناٹک کے ذریعے روشنی ڈالی۔
بیلاسس روڈ پر واقع انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز پرائمری اسکول کے طلبہ۔ تصویر: آئی این این
جہاں ایک شہر ومضافات کے بیشتر اسکولوں میں سنیچر کو ۸۰؍واں یوم ِ آزادی منانے کی تیاریاں جوش و خروش سے جاری ہیں، وہیں دوسری طرف متعدد نجی اسکولوں میں جمعہ کویوم آزادی سے متعلق مختلف قسم کی ثقافتی سرگرمیوں پر مبنی پروگراموں کا انعقاد کیا گیاجن میں طلبہ نے گرمجوشی سے حصہ لیا۔ جنوبی ممبئی کے بیلاسس روڈ پر واقع انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز پرائمری اسکول میں ثقافتی تقریبات کے علاوہ جنک فوڈ، پلاسٹک کے استعمال سےنجات اور نشہ سے پاک صاف ماحول پر مبنی نکڑناٹک پیش کئے گئے جن میں طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ طالبات نے پلاسٹک کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کے علاوہ جنک فوڈ سے حفظان صحت کے مسائل پر روشنی ڈالی ،ساتھ ہی نشہ کی لت کس طرح صحت ، تعلیم ،کردار اور مستقبل کو تباہ کر رہا ہے ،اسے اُجاگرکیا۔
نکڑ ناٹک کے ذریعےطالبات نے نوجوانوں کو نشہ سے دور رہنے کاپیغام دیا اور یہ بھی بتایاکہ نشے سے دور رہ کر صحت منداور بامقصد زندگی گزاری جاسکتی ہے۔طالبات نے اپنی دلکش اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی سے حاضرین کا دل جیت لیا ۔ ان پروگراموں کے ذریعے طالبات نے یہ پیغام بھی دیا کہ دراصل آزادی صرف غلامی سے نجات کانام نہیں بلکہ ہر ایسی برائی سے آزاد ہوناچاہئے جو معاشرہ کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ملاڈ مشرق میں واقع ایک اُردو میڈیم اسکول کی معلمہ نے بتایا کہ ’’ہمارے اسکول میں بھی جمعہ کو یوم ِآزادی سے متعلق مختلف قسم کی ثقافتی تقریبات کا انعقاد کیا گیاجن میں فینسی ڈریس، مونوایکٹنگ ، تقریری اور ڈرائنگ مقابلے شامل ہیں۔ بچوں نے ان سبھی پروگراموں اور مقابلے میں جوش وخروش سے حصہ لیا۔‘‘
گوونڈی کی ایک اسکول کے معلم نے بتایا کہ ’’ ایس آئی آرکی ڈیوٹی کی وجہ سے بیشتر اساتذہ اسکول سے غیر حاضر ہیں اس لئے امسال یوم آزادی کی تقریبات محدود پیمانے پر منعقد کی جا رہی ہیں ۔ ریگولر ثقافتی تقریبات سے ہٹ کر کوئی نیا پروگرام نہیں کیا جا رہا ہے ۔‘‘
کچھ اسکول ایسے بھی ہیں جہاں جمعہ کے علاوہ سنیچر کو بھی ثقافتی تقریبات کااہتمام کیا جائیگا۔